
تہران،07جون(ہ س)۔ایران کی مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے پہلے دن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ زخمی ہو گئی تھی۔انہوں نے سیرجان شہر کی انتظامی کونسل کے اراکین سے ملاقات کے دوران کہا کہ زخم اس قدر شدید تھا کہ ابتدائی طور پر ٹانگ کے کٹ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں طبی امداد کے ذریعے اسے بچا لیا گیا۔یہ بات ایرانی میڈیا کے مطابق سامنے آئی ہے۔
یہ بیانات مجتبیٰ خامنہ ای کی حالتِ زار کے حوالے سے پہلا باضابطہ ایرانی اعتراف قرار دیے جا رہے ہیں، جس میں ان کی ممکنہ شدید چوٹ کی تصدیق کی گئی ہے۔یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے، جب مارچ میں انتخاب کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر مکمل طور پر غائب ہیںاور انہیں اپنے والد علی خامنہ ای کا جانشین مقرر کیا گیا تھا، جنہیں مبینہ طور پر 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اسرائیلی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان کی صحت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں ابہام برقرار ہے، جبکہ یہ سوالات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں کہ آیا وہ واقعی ملک میں اقتدار اور فیصلوں کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں یا نہیں۔تاہم بعض اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ریاستی امور اور فیصلہ سازی میں کسی حد تک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
جنیوا انسٹی ٹیوٹ فار ہائر اسٹڈیز میں ایران امور کے ماہر فرزان ثابت نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای غالباً اپنے دفتر کی مدد سے پالیسیوں کی مجموعی سمت کی نگرانی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم مو¿قف بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ ان کی براہِ راست سیاسی شمولیت اپنے والد کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جس کی وجہ سیکیورٹی صورتحال اور ان کی صحت سے متعلق خدشات ہیں۔فرزان ثابت کے مطابق اگر سیکیورٹی حالات مستحکم ہوں اور صحت بہتر ہو جائے تو ان کے کردار میں اضافہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ فرانس پریس نے رپورٹ کیا۔دوسری جانب اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر تومہ ڑونو نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار اس وقت واضح نہیں ہے اور موجودہ مرحلے میں ان کے اثر و رسوخ کو ان کے والد کے برابر سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ وہ ملک کے کئی طاقتور حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ طاقت کا توازن بظاہر ایک غیر رسمی کمیٹی کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر اور چند اہم سیاسی رہنما شامل ہیں، جن میں مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں، جو خود پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر رہ چکے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز واضح کیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ رابطہ مسلسل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی رکی نہیں، اگرچہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔عباس عراقچی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایات بروقت حکومت تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکی انتظامیہ اور بعض حکام کی جانب سے یہ دعویٰ درست ہے کہ رہبر اور مذاکراتی ٹیم کے درمیان رابطے میں مشکلات ہیں یا جوابات کے تبادلے میں تاخیر ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی سیاسی قیادت مکمل طور پر خامنہ ای کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات بھی انہی کی منظوری اور رہنمائی کے تحت ہو رہے ہیں۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب خامنہ ای نے ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل پر ایران کے اندر تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ''بلاشبہ'' مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز اشارہ دیا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتی ہوئی شمولیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان اور مسلح افواج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر ''خاتم الانبیاء'' کے سربراہ علی عبداللہی نے پہلے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم ان ملاقاتوں کی کوئی تصاویر یا تفصیلات عوام کے سامنے جاری نہیں کی گئیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan