
تہران،07جون(ہ س)۔خلیجِ عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے امریکی جنگی جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے انتباہی کارروائی کی، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ایرانی فوج نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ بحریہ کی جانب سے میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کے ذریعے وارننگ دینے کے بعد امریکی ڈسٹرائرز DDG-103 اور DDG-87 خلیجِ عمان سے نکل کر بحرِ ہند کی جانب روانہ ہو گئیں۔بیان میں اس کارروائی کو خطے میں ''غیر مجاز بحری نقل و حرکت ''کے خلاف اقدام قرار دیا گیا۔
ایرانی فوج کے مطابق یہ انتباہات امریکی بحریہ کی جانب سے مبینہ طور پر تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے خلاف کی جانے والی ''بحری خلل اندازی اور کارروائیوں'' کے جواب میں دی گئیں۔ یہ بات ایرانی سرکاری ٹیلی وڑن نے نقل کی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی حملہ آور آبی و بری جنگی جہاز ''ٹرپولی'' (Tripoli) بھی خلیجِ عمان سے روانہ ہو گیا، جبکہ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ''یو ایس ایس جارج بوش'' (USS George Bush) سے منسلک دیگر بحری یونٹس بھی علاقے سے نکل گئے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے خلیجِ عمان میں امریکی جنگی جہازوں کی جانب ایران کی مبینہ انتباہی میزائل فائرنگ کی خبروں کی تردید کر دی۔امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ دعوے درست نہیں ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا، جب بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں امریکی فوجی کمان نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے گزشتہ رات بحرِ ہند میں پابندیوں کی زد میں موجود اور بغیر پرچم چلنے والے جہاز ''دافینا'' کو روکنے اور اس کی تلاشی لینے کی کارروائی کی۔امریکی کمان نے اپنے بیان میں کہا: ہم غیر قانونی نیٹ ورکس کو متاثر کرنے اور ایران کو مادی معاونت فراہم کرنے والے جہازوں کو جہاں کہیں بھی سرگرم ہوں، روکنے کے لیے دنیا بھر میں بحری قانون کے نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ٰامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری محاصرہ بدستور جاری ہے۔ اس سلسلے میں اس نے امریکی حملہ آور آبی و بری جنگی جہاز ''یو ایس ایس ٹرپولی'' کی ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں اسے بحیرہ عرب سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔سینٹکام کے مطابق یہ جہاز خطے میں امریکی بحری کارروائیوں کی معاونت کر رہا ہے۔سینٹکام نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ چکی ہیں جبکہ 6 دیگر جہازوں کی سرگرمیاں معطل یا ناکام بنا چکی ہیں تاکہ ایران پر عائد بحری محاصرے کی پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل ایک جانب جبکہ ایران دوسری جانب کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی۔آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی تقریباً پانچ میں سے ایک کھیپ کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔دوسری طرف امریکی افواج نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر سخت بحری محاصرہ نافذ کر رکھا ہے، جس کے تحت ایران کی بندرگاہوں سے کسی بھی جہاز کے داخلے یا روانگی کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan