
بیروت، 7 جون (ہ س)۔ امریکہ کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان واشنگٹن میں معلنہ مشروط جنگ بندی (سیز فائر) دکھاوا ثابت ہوئی۔ اسرائیل کے تازہ حملے میں 12 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں لبنان کی فوج کے ایک اعلی افسر بھی شامل ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ بریگیڈیئر جنرل ، ایک کیپٹن اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کی موت خردلی-نبطیہ شاہراہ پر سفر کے دوران ہوئی۔ بریگیڈیئر جنرل کو پاکستان پہنچنا تھا، لیکن پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی ان کی جان لے لی گئی۔ لبنان کے صدر اور وزیر اعظم نے ملک کے فوجی سربراہ (مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف) بریگیڈیئر جنرل روڈولف ہیکل کو نشانہ بنانے کو ملک کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ اس حملے کی کئی ممالک نے بھی سخت مذمت کی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے 6 جون کو لبنان پر قہر برپایا۔ لبنان کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں خردلی-نبطیہ شاہراہ پر ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے والی فوجی گاڑی تباہ ہو گئی۔ اس میں سوار فوج کے سپریم کمانڈر، کیپٹن اور ایک فوجی مارے گئے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ یہ حملہ سرگرم جنگی علاقے میں ہوا، اس علاقے میں آمد و رفت کے لیے اسرائیلی فوج کے ساتھ تال میل ضروری ہے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس واقعے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
لبنانی فوج نے کہا، ’’اسرائیل کی جان بوجھ کر اور بار بار کی جا رہی وحشیانہ کارروائیوں اور جارحیت کا مقصد کسی حل تک پہنچنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے‘‘۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’لبنان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ وزیر اعظم نواف سلام نے اسے ’’ایک گھناونا جرم اور لبنان و تمام لبنانی عوام پر حملہ‘‘ قرار دیا۔ لبنانی وزیر اعظم سلام نے ایک بیان میں بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا، کیپٹن ایلی خوری اور سپاہی حسین غزال کے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ ساتھ لبنانی فوج سے تعزیت کا اظہار کیا۔
لبنان کی فوج نے بتایا کہ اس کے سپریم کمانڈر روڈولف ہیکل اپنے پاکستانی ہم منصب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے لیے پاکستان جا رہے تھے۔ لبنان میں سرگرم ایران نواز مسلح جنگجو تنظیم حزب اللہ نے حملے کو ’’گھناونا جرم‘‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی لبنان حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ’’واشنگٹن میں دشمن کے مطالبات کے سامنے پوری طرح گھٹنے ٹیک کر‘‘ ملک کو خون خرابے کے درمیان دھکیل دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ان ہلاکتوں سے یہ بات پھر ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیل ’’لبنان کے ہر حصے پر اپنا دعویٰ کر رہا ہے‘‘۔ بقائی نے کہا کہ یہ لبنان، اس کی فوج اور اس کی خودمختاری کے خلاف ایک گھناونا جرم ہے۔ صاف ہے کہ اسرائیل لبنان میں امن و امان، استحکام یا خوشحالی نہیں چاہتا‘‘۔ سعودی عرب نے اس حملے اور دوست ملک جمہوریہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی مسلسل جارحیت کی مذمت کی ہے۔
اردن نے کہا کہ یہ ’’دوست ملک لبنان کی خودمختاری، امن و امان اور استحکام کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی صاف خلاف ورزی ہے‘‘۔ قطر نے اسے ’’خطرناک کشیدگی اور لبنان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ بتایا ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر پوری طرح عمل کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے کہا کہ ایسے حملے لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی اسی قرارداد نے 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم کرائی تھی۔ اس کے علاوہ لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) نے بتایا کہ صیدا ضلع کے سکساکیہ گاوں میں اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔ نبطیہ ضلع کے دیر الزہرانی میں ایک کار کو نشانہ بنا کر کیے گئے اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک اور شخص کی موت ہو گئی۔
اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے گزشتہ دو دنوں میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 150 ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ ان میں اسلحہ کے گودام، کمانڈ سینٹر، راکٹ لانچر اور انفراسٹرکچر سائٹس شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کی دیر رات کہا کہ اس کے دو فوجی جنوبی لبنان میں مارے گئے ہیں۔ دوسری طرف، حزب اللہ نے بنت جبیل علاقے میں اسرائیل کی چوکی کو ڈرون حملے میں اڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں کا سلسلہ 17 اپریل سے چل رہا ہے، لیکن اب تک اس پر کبھی پوری طرح سے عمل نہیں کیا گیا۔ حزب اللہ اور اسرائیل نے اکثر ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔ دو چار دن پہلے واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیلی مندوبین نے ایک مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، لیکن حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا تھا کہ وہ اس جنگ بندی کو نہیں مانیں گے۔ جنوبی لبنان سے اسرائیل کی واپسی پر ہی کوئی معاہدہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی چلتی رہتی ہے۔ اس دوران لبنان کی فوج نے تاریخی طور پر ٹکراو سے گریز کیا ہے اور موجودہ تنازعہ میں شامل نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنے کمانڈر کی موت سے صدمے میں ہے۔ حزب اللہ نے 2 مارچ سے ایران کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے نئے اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک پورے لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3593 لوگ مارے گئے ہیں اور 10990 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن