
وینیزویلا میں زلزلے سے ہر طرف تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 1,719 پہنچی، ہزاروں لوگ اب بھی لاپتہ
کاراکاس، 30 جون (ہ س)۔ براعظم جنوبی امریکہ کے شمالی سرے پر واقع وینیزویلا میں پانچ دن پہلے آئے دو زلزلوں سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 1,719 ہو گئی ہے۔ 5,034 لوگ زخمی ہیں اور ہزاروں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ امدادی اور بچاو مہم جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ آفٹر شاکس اور تباہ شدہ عمارتوں کی وجہ سے مہم میں مشکلات آ رہی ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے پیر کو بتایا کہ اب تک کم از کم 1,719 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ 5,034 لوگ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے بدھ کی شام آئے تھے۔ ان کے جھٹکے پڑوسی ملک کولمبیا میں بھی محسوس کیے گئے۔ انہیں گزشتہ ایک صدی میں وینیزویلا میں آنے والے سب سے تباہ کن زلزلے مانا جا رہا ہے۔
روڈریگیز نے بتایا کہ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ اس بات کا 44 فیصد امکان ہے کہ مرنے والوں کی کل تعداد 10,000 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جھٹکوں سے کم از کم 22,619 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ کم از کم 855 عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے 189 پوری طرح گر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو زلزلہ آنے کے بعد سے 609 آفٹر شاکس (زلزلے کے بعد کے جھٹکے) آئے ہیں۔ ان میں سے ایک جھٹکا آج صبح کئی لوگوں نے محسوس کیا۔
امدادی کاموں میں مدد کے لیے بین الاقوامی امدادی گروپ وینیزویلا پہنچ گئے ہیں۔ اس آفت کے بعد کئی بے گھر ہوئے لوگوں کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ تباہی لاگوئرا ریاست، دارالحکومت کاراکاس اور آس پاس کے علاقوں میں ہوئی ہے۔ اسرائیل کی آفٹر ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم منگل کو وینیزویلا کے لیے روانہ ہوگی۔ یہ اعلان اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کیا۔ اس ٹیم میں وزارت کے ارکان کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ہوم فرنٹ کمانڈ کے بچاو اہلکار بھی شامل ہوں گے۔ بعد میں نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے ماہرین بھی اس میں شامل ہوں گے۔ وینیزویلا کے لیے یہ امداد اسرائیل کے لیے اہم ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی سالوں سے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
کاراکاس میں حکام بنیادی ڈھانچے کو ہوئے نقصان کا پتا لگانے کے لیے ’’ٹریفک لائٹ‘‘ سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔ کاراکاس میں موجود چاکاو میئر آفس نے زلزلے سے ہوئے نقصان کا اندازہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ یہ کام خاص طور پر لاس پالوس گرانڈیس علاقے میں کیا جا رہی ہے۔ اس کے لیے وہ ٹریفک لائٹ سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔ جن عمارتوں پر ہرا نشان ہے، وہ رہنے کے قابل ہیں۔ پیلا نشان درمیانے نقصان کو ظاہر کرتا ہے اور لال نشان اس بات کی علامت ہے کہ عمارت میں اندر جانا محفوظ نہیں ہے۔
وینیزویلا میں نقصان ہر جگہ دکھائی دے رہا ہے۔ عمارتوں کے بیرونی حصوں میں دراڑیں پڑنے سے لے کر سڑکوں پر پڑی بڑی بڑی دراڑیں تک۔ ضروری جانچ پڑتال ہونے تک کچھ علاقے اور عمارتیں عام لوگوں کے لیے بند رکھی گئی ہیں۔ وینیزویلا کی کارگز ا ر صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ ماہرین لاگوئرا، میرانڈا اور کاراکاس میں یہ پتا لگانے کے لیے موجود ہیں کہ آیا گھر رہنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام بے گھر ہوئے لوگوں کے لیے نئے گھر بنانے کے منصوبے بھی تیار کر رہے ہیں۔
تلاش اور بچاو مہم کے دوران کچھ خوشی کے لمحات بھی دیکھنے کو ملے۔ مثلاً ایک نوائیدہ بچے اور تین دنوں سے پھنسی ایک خاتون کو محفوظ باہر نکالنا۔ حکام کو امید ہے کہ غیر ملکی امداد اور بچاو اہلکاروں کے آنے سے انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ سیٹلائٹ راڈار ڈیٹا پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق، ناسا کے محققین کا اندازہ ہے کہ وسطی اور شمالی وینیزویلا میں آئے دو زلزلوں سے تقریباً 58,870 عمارتیں تباہ یا متاثر ہوئیں۔ اس رپورٹ میں زلزلے کے اثرات کا پتا لگانے کے لیے یورپی اسپیس ایجنسی کے سینٹینل-1 سیٹلائٹ کے راڈار کا استعمال کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اوریگون یونیورسٹی کے محققین کوری شیر اور جیمن وین ڈین ہوئک کا تیز اور ابتدائی اندازہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن