کینیڈی ایئرپورٹ کے قریب امریکی مسافر طیارے سے ٹکرایا ڈرون، تحقیقات کا آغاز
واشنگٹن،30جون(ہ س)۔پیر کی صبح نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والی جیٹ بلو ایئرلائن کی ایک پرواز کے پائلٹ نے طیارے سے ایک ڈرون کے ٹکرانے کی اطلاع دی ہے۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ واقعہ
کینیڈی ایئرپورٹ کے قریب امریکی مسافر طیارے سے ٹکرایا ڈرون، تحقیقات کا آغاز


واشنگٹن،30جون(ہ س)۔پیر کی صبح نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والی جیٹ بلو ایئرلائن کی ایک پرواز کے پائلٹ نے طیارے سے ایک ڈرون کے ٹکرانے کی اطلاع دی ہے۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ واقعہ پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 07:15 بجے اس وقت پیش آیا جب طیارہ ساحل عبور کرتے ہوئے 3 ہزار فٹ (914 میٹر) کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ طیارہ بحفاظت اتر گیا اور اضافی مدد کی ضرورت نہیں پڑی، جبکہ معائنے کے بعد طیارے پر کسی قسم کے نقصانات کے نشانات نہیں ملے۔اے ٹی سی ڈاٹ کام کے مطابق پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو بتایا کہ موڑ کاٹتے وقت ہمارا ایک ڈرون سے ٹکراو¿ ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ وہ براہ راست کاک پٹ کے اوپر آ کر لگا ہے۔جیٹ بلو کا کہنا ہے کہ تمام مسافر معمول کے مطابق طیارے سے اتر گئے، جس کے بعد ضروری جانچ کے لیے اسے سروس سے ہٹا دیا گیا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ انہیں کسی نقصان یا ٹکراو¿ کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ یہ ایئربس اے 321 طیارہ لاس ویگاس سے نیویارک کی رات کی پرواز پر تھا۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم متعلقہ تحقیقات میں تعاون کریں گے۔عام طور پر ڈرونز کو 400 فٹ (122 میٹر) سے کم بلندی پر اڑنے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن حفاظتی وجوہات کی بنا پر ہوائی اڈوں اور عوامی تقریبات جیسے کہ ورلڈ کپ میچوں کے گرد فضائی حدود پر پابندیاں عائد کرتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی موجودگی خواہ آپریٹرز کا مقصد صرف فضائی فوٹیج لینا ہی کیوں نہ ہو، سکیورٹی اہل کاروں کی توجہ دیگر ممکنہ خطرات سے ہٹا سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande