ایران نے کہا۔ قطر میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت طے نہیں، ہرمز میں حالات کچھ بہتر ہوئے
ایران نے کہا۔ قطر میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت طے نہیں، ہرمز میں حالات کچھ بہتر ہوئے تہران/واشنگٹن، 30 جون (ہ س)۔ ایران نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت طے نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی۔ فوٹو انٹرنیٹ میڈیا


ایران نے کہا۔ قطر میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت طے نہیں، ہرمز میں حالات کچھ بہتر ہوئے

تہران/واشنگٹن، 30 جون (ہ س)۔ ایران نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت طے نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ان کے وفد کے دورۂ قطر کا امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی میٹنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ایران کا یہ بڑا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کے برعکس ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے وفود آبنائے ہرمز پر مرکوز مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ دوسری طرف، آبنائے ہرمز میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی اور الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’آنے والے دنوں میں ہماری امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت یا میٹنگ طے نہیں ہے۔ امریکی نمائندوں کے قطر جانے کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ بقائی نے زور دیا کہ بڑے معاہدے پر بات چیت ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ بقائی نے کہا، ’’ایم او یو کے مسودے کے مطابق، حتمی معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز 14 نکاتی مفاہمت نامے کے سلسلہ نمبر 1، 4، 5، 10، اور 11 میں مذکورہ باتوں کے نفاذ پر منحصر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران کے منجمد یا روکے گئے فنڈز اور اثاثوں کو باہمی رضامندی سے طے شدہ عمل کے تحت استعمال کے لیے پوری طرح دستیاب کرانا ہوگا۔

اس دوران، وائٹ ہاوس نے کہا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر منگل کو ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے دوحہ جائیں گے۔ وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اس کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ میٹنگ ایران کی درخواست پر ہو رہی ہے۔ لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ امن کے عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایران سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں دشمنی ختم کرنے کے لیے 14 نکاتی ایم او یو پر دستخط کرنے کے بعد تکنیکی بات چیت جاری ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’ایران نے میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ یہ کل دوحہ میں ہوگی۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سب سے پہلے دوحہ میں ہونے والی میٹنگ کا انکشاف کر چکی ہے۔ تاہم اس کے بعد ایران کے سرکاری براڈکاسٹر اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ نے ایران کے قانون اور بین الاقوامی امور کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے حوالے سے کہا کہ اس ہفتے کوئی ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی میٹنگ طے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر کے ساتھ بات چیت ہمیشہ کی طرح جاری ہے۔ واضح رہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں قطر اہم ثالث ہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے الگ الگ بیانات سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کو لے کر ملے جلے اشاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں نئی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام اس ہفتے قطر میں ملیں گے، لیکن تہران نے اس سے انکار کیا کہ ایسی کوئی میٹنگ طے نہیں ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کا یہ تبصرہ ٹرمپ کے اس بیان کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بات چیت منگل سے شروع ہوگی۔ ان الگ الگ بیانات نے سفارتی کوششوں کی صورتِ حال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم آبنائے ہرمز میں 24 گھنٹوں میں صورتِ حال پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔ میرین ٹریفک ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرے۔ خلیجِ فارس سے باہر جانے والے جہازوں میں چھ آئل ٹینکر اور آٹھ کارگو جہاز شامل ہیں، جبکہ پانچ ٹینکر اور چھ کارگو جہاز خلیج میں داخل ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande