
تہران،30جون(ہ س)۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان باہمی مفاہمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مکمل عمل کریں۔انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ معاہدے کی پاسداری کرے گا، تو ایران بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
صدر پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران غیر ضروری دھمکیوں اور بلاجواز طاقت کے مظاہرے کا جواب عقل، تدبر اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتا ہے، تاہم جب عملی اقدام کا وقت آئے گا، تو اپنے مفادات کے دفاع میں پوری ثابت قدمی اور بے خوفی سے کام لے گا۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو منگل کو دوحہ میں ہوگی۔دوسری جانب تہران نے اعلان کیا ہے کہ ایک تکنیکی وفد اس ہفتے قطر کا دورہ کرے گا تاکہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مختلف پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جا سکے۔ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران اور عمان کے درمیان جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق پہلی دوطرفہ بات چیت ہوئی، جبکہ واشنگٹن اور تہران نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہونے والے باہمی حملوں کو روکنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔
مذاکرات سے باخبر ایک سفارتکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان ملاقاتیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے رابطوں کے ذرائع اب بھی فعال ہیں۔ایک امریکی عہدیدار نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے تمام شعبوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال دونوں فریق اپنے حملے روکیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں جہاز آزادانہ طور پر آمدورفت کر سکیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan