
تہران، 30 جون (ہ س)۔ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور حساس اور انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں اکیلے ہی ہٹائے گا۔ اس کوشش میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس اہلکار نے فرانس کا نام لے کر اس سلسلے میں خبردار کیا۔
امریکی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ایران اکیلا ہی آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام انجام دے گا۔ غریب آبادی نے ایکس پر کہا کہ ایران کسی دوسرے ملک کو بارودی سرنگیں ہٹانے کے کام میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال حساس اور پیچیدہ ہے۔ انہوں نے فرانس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اشتعال انگیز اقدامات سے اسے مزید پیچیدہ نہ کرے۔
اس سے قبل پیر کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے کہا تھا کہ فرانس اور عمان نے آبنائے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو اس بات کی تردید کی کہ اس کے حکام منگل کو قطر میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے۔
ایران کے صدر نے پیر کے روز کہا کہ ملک کو قطر میں منجمد اثاثوں میں سے 6 بلین ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ ایران کے مالیاتی اثاثوں کی بحالی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی شرائط میں سے ایک ہے۔ دریں اثناء کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک سینئر فیلو ایرون ڈیوڈ ملر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پہلے کی صورتحال کی واپسی کا امکان بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم آبی گزرگاہوں باب المندب اور ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد