درولی پولیس ٹیم پر حملہ معاملہ میں 9 گرفتار، تھانہ انچارج معطل، نیا ایس ایچ او تعینات
سیوان، 29 جون (ہ س)۔سیوان پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے درولی تھانہ علاقے کے تحت ٹوکا نارائن پورگاؤں میں اتوارکوغیرقانونی ریت لے جانے والے ٹریکٹر کی زد میں آکر ایک شخص کی موت کے بعد پولیس ٹیم پرحملے کے معاملے میں نو شرپسندوں کو گرفتار کیا ہے۔
درولی پولیس حملہ  معاملہ میں 9 گرفتار، تھانہ انچارج معطل، نیا ایس ایچ او تعینات


سیوان، 29 جون (ہ س)۔سیوان پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے درولی تھانہ علاقے کے تحت ٹوکا نارائن پورگاؤں میں اتوارکوغیرقانونی ریت لے جانے والے ٹریکٹر کی زد میں آکر ایک شخص کی موت کے بعد پولیس ٹیم پرحملے کے معاملے میں نو شرپسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ دریں اثناء اس وقت کے درولی تھانہ انچارج وویک کمار کو واقعہ میں لاپروائی برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس انسپکٹر ابھینو کمار دوبے کو درولی کا نیا تھانہ انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے اشارہ دیا کہ اس معاملے میں کئی دیگر پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں پولیس سپرنٹنڈنٹ پورن کمار جھا نے بتایا کہ 28 جون کو غیر قانونی ریت لے جانے والا ٹریکٹر ایک شخص پرچڑھ گیا، جس سے اس کی موقع پر ہی موت ہوگئی اورڈرائیورفرارہو گیا۔ اطلاع ملنے پر درولی تھانہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر قانونی کارروائی شروع کردی۔ اس دوران کچھ مشتعل گاؤں والوں نے پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا اور سڑک جام کر دیا۔ پتھر بازی میں کانسٹیبل ابھیشیک کمار اور چندن کمار زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے صدر اسپتال بھیجا گیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وہ صدر-1 اور صدر-2 کے سب ڈویژنل پولیس افسران، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ہیڈ کوارٹر) اور دیگر افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور لوگوں کو سڑک کی ناکہ بندی ختم کرنے پر راضی کیا۔ جس کے بعد پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والوں کی نشاندہی اور گرفتاری کی ہدایات دی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ تکنیکی تحقیقات اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایس ڈی پی او گوری کماری کی قیادت میں تشکیل دی گئی ایک خصوصی ٹیم نے رات بھر چھاپہ ماری کر کے 9 بدمعاشوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد میں آٹھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔گرفتار بدمعاشوں کی شناخت پون سہنی، دگیش سہنی، انکیش سہنی، مکیش کمار سہنی، دھرمیندر سہنی، امت کمار چودھری، سندیپ چوہان، روی سہنی اور ایک خاتون کے طور پر کی گئی ہے۔ایس پی نے بتایا کہ ٹریکٹر ڈرائیور صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حادثے کے بعد فرار ہوگیا۔ پکڑے گئے ٹریکٹر کا کوئی رجسٹریشن نمبر نہیں تھا۔ پولیس انجن اور چیسس نمبر کی بنیاد پر گاڑی کے مالک کی شناخت کر رہی ہے۔ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ٹریکٹر پر لدی سفید ریت کوغیرقانونی طورپردریائی گھاٹ سے منتقل کیا جا رہا تھا، کیونکہ کان کنی کا کام فی الحال بند ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande