اے ایم یو کے شعبہ لسانیات کے محققین نے قومی کانفرنس میں تحقیقی مقالات پیش کیے
اے ایم یو کے شعبہ لسانیات کے محققین نے قومی کانفرنس میں تحقیقی مقالات پیش کیے علی گڑھ، 29 جون (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ میں منعقدہ 53 ویں کل ہند دراوڑی ماہرین
وفد پْتیالیہ


اے ایم یو کے شعبہ لسانیات کے محققین نے قومی کانفرنس میں تحقیقی مقالات پیش کیے

علی گڑھ، 29 جون (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ میں منعقدہ 53 ویں کل ہند دراوڑی ماہرینِ لسانیات کانفرنس میں لسانیات کے مختلف عصری موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے۔ ریسرچ اسکالرز نے اپنے مقالات شعبہ لسانیات کے سربراہ اور لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر پروفیسر ایم جے وارثی کی رہنمائی میں پیش کیے۔

عفرہ زماں اور اظہر احمد نے سکنڈری اسکول کے انگریزی کے طلبہ میں لسانی درستگی اور عملی لسانی صلاحیت کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جب کہ ڈاکٹر سعدیہ حسنیٰ حسن اور شگفتہ ارم کا مقالہ آٹزم اور ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ بچوں میں گفتار اور زبان سے متعلق مشکلات کے بارے میں اساتذہ کے رویے اور تصورات کے مقداری توضیحی مطالعہ پر مبنی تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر محمد طاہر اور سہانہ اصغری نے آسام کے ہوجائی ضلع میں ہائر سکنڈری تعلیم میں لسانی نظریات کا مطالعہ اور کثیر لسانی صورت حال موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ عالمین زہرہ ، عظمیٰ آفرین اور محمد رافع نے نسل نو کے ڈیجیٹل مواصلات میں زبان کی تبدیلی کا صرفی و نحوی مطالعہ موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ منظور احمد نے انگریزی زبان کی تدریس میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اور ثناء طہٰ عقیل نے یمن میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کا سماجی لسانیاتی تجزیہ موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔

پروفیسر وارثی نے کانفرنس میں شریک تمام محققین کو مبارک باد پیش کی اور ان کی علمی کاوشوں کو سراہا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande