
حیدرآباد، 29 جون (ہ س) -بی آرایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راماراؤ نے الزام عائد کیاکہ کانگریس اور بی جے پی موسیٰ ندی کو ختم کرنے کی مشترکہ طور پرسازش کررہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کواس تاریخی ندی سے محروم کیا جائے۔
کے ٹی آر آج وقارآباد اسمبلی حلقہ میں بی آر ایس کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ریونت ریڈی موسیٰ ندی کی ترقی کادعویٰ کررہے ہیں جبکہ ان کی حکومت نے وقارآباد کے گھنے جنگلات میں 1.2 ملین درختوں کوکاٹنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کواس کے آغاز کے مقام پرہی ختم کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ مقامی افراد، اپوزیشن پارٹیوں اور ماحولیات کے جہدکاروں کی مخالفت کے باوجود ریاستی حکومت نے بحریہ کے راڈار اسٹیشن کے قیام کےلئے 2000 ایکرپر جنگل کی صفائی کی اجازت دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وقار آبادحیدرآباد میٹرو پولیٹن ریجن کے قریب واقع واحد ہل اسٹیشن ہے اور اس کے جنگلاتی علاقہ کو ختم کرتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن پیداکیا جائےگا۔ کے ٹی آر نے موسیٰ ندی کے صفائی کے نام پر جنگلات کے خاتمہ کے خلاف حکومت کو انتباہ دیا۔
انہوں نے کہاکہ بحریہ کے راڈاراسٹیشن کے قیام کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے اشارہ پر جنگل کا صفایا کیاجارہا ہے۔ بی آر ایس حکومت نے مرکز کے دباؤ کے باوجود ایک ایکرجنگل بھی صاف کرنے سے انکارکیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے مرکز میں بڑے بھائی کی درخواست پر ہزاروں ایکر اراضی حوالے کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے رنگاریڈی ضلع میں تین میڈیکل کالجس، نرسنگ کالجس اور گروکل تعلیمی ادارے قائم کئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ رنگاریڈی ضلع کی ترقی کے لئے منصوبہ بند انداز میں اقدامار کئے گئے۔ اسپیکر اسمبلی پرساد کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ دستوری عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے وہ ریاست کے مالی موقف کے بارے میں گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق