
کاراکاس، 28 جون (ہ س)۔ وینیزویلا میں حال ہی میں آئے دو طاقتور زلزلے کے جھٹکوں سے لاکھوں لوگ شدید بحران میں ہیں۔ مہلوکین کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے ہفتہ کو ملک کے زلزلہ متاثرہ شمال-وسطی علاقے کے حالات کی تازہ تفصیلات دنیا کے ساتھ شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 جون کو آئے زلزلے سے مرنے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 1430 ہو گئی ہے اور 3238 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
وینیزویلا کے ہسپانوی زبان کے اخبار دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق، روڈریگز نے ملک کے نام خطاب میں کہا کہ اس المیے میں 3142 خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور زلزلے سے متاثرہ سات ریاستوں میں بنائے گئے عارضی شیلٹرز میں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنے 1430 ساتھی شہریوں کی موت کی معلومات دے رہے ہیں۔ ہم ان وینیزویلا کے شہریوں کے خاندانوں اور ان کے پیاروں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ کارگز ار صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ 10 اور ممالک کی بچاو ٹیمیں جلد ہی امدادی مہم میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ لا گوائیرا میں سیکورٹی انتظامات اور صفائی ستھرائی کے کاموں کے لیے 14 ہزار فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ زلزلے کے مرکز مورون اور لا گوائیرا کے کچھ حصوں میں اب بھی بجلی کی سپلائی معطل ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وینیزویلا کے ساحلی شہر لا گوائیرا میں کم از کم 100 رہائشی کثیر المنزلہ عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔ مقامی لوگوں اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ بھاری مشینوں کی کمی اور امدادی کاموں کی سست رفتار کے باعث بچاو مہم متاثر ہو رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں یا ملبے میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، حزبِ اختلاف کی ایک ویب سائٹ پر 54 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ 7.2 اور 7.5 شدت کے ان دونوں زلزلوں سے مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ گزشتہ ایک صدی میں لاطینی امریکہ کا سب سے مہلک زلزلہ المیہ ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، اس آفت سے تقریباً 70 لاکھ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ تنظیم نے براہِ راست معاشی نقصان کا اندازہ تقریباً 6.7 ارب ڈالر لگایا ہے۔ وینیزویلا حکومت نے بتایا کہ ہفتہ تک مختلف ممالک سے 1600 بچاو اہلکار امدادی اور تلاش مہم میں شامل ہونے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ وہیں، امریکہ سے امدادی سامان لے کر پہلی امدادی پروازیں بھی کاراکاس پہنچ گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن