امریکہ نے ایران پر مسلسل دوسرے دن بھی کیا حملہ ، خطے میں امریکی تنصیبات پر ایران کی جوابی کاروائی
تہران/واشنگٹن/بیروت، 28 جون (ہ س)۔ چند دنوں کے امن کے بعد آبنائے ہرمز کے پاس ایک کمرشل جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکہ نے لگاتار دوسرے دن ایران پر بمباری کی ہے۔ امریکہ نے سیرک شہر، بندرِ لنگہ اور قشم جزیرے کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف، بحرین اور ک
بحر عرب میں 21 جون کو دیو ہیکل جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش پر ایک امریکی ملاح نگرانی کرتا ہوا۔ فوٹو امریکی بحریہ


تہران/واشنگٹن/بیروت، 28 جون (ہ س)۔ چند دنوں کے امن کے بعد آبنائے ہرمز کے پاس ایک کمرشل جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکہ نے لگاتار دوسرے دن ایران پر بمباری کی ہے۔ امریکہ نے سیرک شہر، بندرِ لنگہ اور قشم جزیرے کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف، بحرین اور کویت میں ہوائی حملے کے سائرن بج رہے ہیں۔ کویت کی فوج نے کہا ہے کہ دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔ ادھر، لبنان میں امن کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

لبنان حکومت کے ساتھ دشمنی ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے کے ایک دن بعد ہی اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری میں کم از کم ایک شخص کی موت ہو گئی ہے۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی صدر ٹرمپ سے اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں مدد مانگی ہے۔ ادھر، ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ ہوئے معاہدے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ یہ ’’خود مختاری کا ہتھیار ڈالنا‘‘ ہے۔

سی این این، الجزیرہ، اے بی سی نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے اندر اور اس کے آس پاس کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر حملے کی ایک دھندلی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے حملوں کے اپنے تازہ دور میں ملک کے پانچ ساحلی علاقوں پر بمباری کی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا کرارا جواب دیا جائے گا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکہ-ایران کے درمیان ہوئے عبوری معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کا نظام تہران کے پاس ہے۔ امریکہ اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اب سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس لیے کیے گئے کیونکہ ایران نے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج سائٹس کے ساتھ ساتھ ساحلی رڈار کی سہولیات کو بھی نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے پناما کے پرچم والے ٹینکر پر ایران کے رات بھر چلے ڈرون حملوں کے جواب میں یہ حملے کیے۔ اس ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا تھا۔

ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب امریکہ مجبور ہو کر پوری طاقت سے فوجی حملہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اسلامک ریپبلک آف ایران کا وجود ختم ہو جائے گا۔ ادھر، امریکہ کے حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی ارنا اور تسنیم نیوز ایجنسیوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کویت اور بحرین پر ہوئے حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے کویت میں امریکی علی السالم ایئربیس اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں پورٹ سلمان پر موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے پر بیلسٹک میزائلیں اور ڈرون داغے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے ایران کے پانچ ساحلی علاقوں پر امریکی بمباری کے جواب میں کیے گئے۔ عمان نے بحرین پر ہوئے مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔

یاد رہے، فروری کے آخر میں شروع ہونے والی یہ لڑائی اب تک نہیں تھم سکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑی فوجی مہم کا اعلان کیا۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے فوجی، سرکاری اور بنیادی ڈھانچے کے ٹھکانوں پر زبردست حملے کیے۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں بحران بڑھ گیا۔ امن کی تمام کوششیں ہوئیں۔ اس تسلسل میں امریکہ اور ایران کے وفود اس ویک اینڈ پر سوئٹزرلینڈ کے برجن اسٹاک ریزورٹ پہنچے اور جنگ ختم کرنے والے معاہدے کے لیے بات چیت شروع کی۔ اس بات چیت کی بنیاد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے دستخط شدہ مفاہمت نامہ رہا۔ یہ سلسلہ اور آگے بڑھ پاتا کہ لڑائی پھر شروع ہو گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande