
اسلام آباد/کراچی، 28 جون (ہ س)۔ پاکستان کے کراچی شہر کے گلستانِ جوہر علاقے میں ہفتہ کو سیکورٹی فورسز کی ایک تنصیب پر ہوئے حملے میں سندھ رینجرز کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں بھاری سیکورٹی فورس تعینات کر کے وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر دی گئی۔
مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق، دھماکے کے ساتھ ہی یونیورسٹی روڈ پر واقع میٹرولوجیکل چوک کے پاس تیز فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
سندھ پولیس کے سینئر افسران نے بتایا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑی کے ذریعے رینجرز ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین مشتبہ حملہ آوروں کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
افسران کے مطابق، حملے کے بعد علاقے کا پوری طرح محاصرہ کر لیا گیا اور انسدادِ دہشت گردی فورس، اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے کمانڈوز اور رینجرز کی مشترکہ ٹیموں نے تلاشی مہم شروع کی۔ سیکورٹی ایجنسیاں واقعے کی نوعیت اور اس کے پیچھے ملوث عناصر کی جانچ میں مصروف ہیں۔
بچاو سروس ’ریسکیو 1122‘ نے بتایا کہ انہیں گلستانِ جوہر کے بلاک-5 علاقے کے پاس دھماکے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد امدادی اور بچاو ٹیموں کو فوراً جائے وقوع پر بھیجا گیا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے پولیس اور سیکورٹی حکام کو ہدایت دی ہے کہ معاملے کی گہرائی سے جانچ کر کے جلد سے جلد صورتِ حال واضح کی جائے۔ سندھ کے وزیرِ داخلہ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افسران سے مکمل معلومات مانگی ہیں۔
فی الحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ حملہ کس مقصد سے کیا گیا اور اس کے پیچھے کون لوگ شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن