رام مندر میں مبینہ لوٹ پر خاموش رہنے والے سناتنی ہندو نہیں ہیں:سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 26جون(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بھگوان شری رام کے مندر سے کروڑوں روپے کے مبینہ چندے کی چوری کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھی خود کو سناتنی ہندو کہنے والے لوگوں کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ رام مند
رام مندر میں مبینہ لوٹ پر خاموش رہنے والے سناتنی ہندو نہیں ہیں:سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 26جون(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بھگوان شری رام کے مندر سے کروڑوں روپے کے مبینہ چندے کی چوری کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھی خود کو سناتنی ہندو کہنے والے لوگوں کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر میں ہوئی مبینہ لوٹ پر خاموش رہنے والے سناتنی ہندو نہیں ہو سکتے۔ جن لوگوں کو اس مبینہ لوٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا اس پر کوئی تشویش نہیں ہے، وہ ای ڈی پارٹی کے ٹٹو ہیں۔ انہیں بھگوان رام سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ای ڈی پارٹی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو ٹرسٹ میں مقرر کیا، اس کے باوجود کروڑوں روپے کی مبینہ چوری ہو گئی۔ اس سے قبل بھی مندر کے لیے زمین کی خریداری میں کروڑوں روپے کے مبینہ گھوٹالوں کے الزامات سامنے آئے تھے، لیکن حکومت نے انہیں دبا دیا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایودھیا میں تعمیر شدہ بھگوان شری رام کا مندر دنیا بھر میں آباد کروڑوں ہندو¶ں کی عقیدت، وقار اور مذہبی وابستگی کی علامت ہے۔

اس مندر کی دیکھ بھال کے لیے جو ٹرسٹ بنایا گیا، وہ 2020 میں براہِ راست مودی حکومت نے تشکیل دیا تھا۔ ان کے مطابق اس ٹرسٹ پر مسلسل الزامات لگتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2021 میں بھی یہ الزام سامنے آیا تھا کہ مندر کے لیے خریدی گئی زمین پہلے ٹرسٹ سے وابستہ افراد نے کم قیمت پر خریدی اور پھر اسی زمین کو کئی گنا زیادہ قیمت پر مندر کو فروخت کر کے چندے کی رقم سے منافع کمایا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ عوام کے سامنے آیا، مگر اسے دبا دیا گیا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھایا جانے والا کروڑوں روپے کا نقد چندہ، سونے اور چاندی کی اینٹیں، قیمتی پتھر، جواہرات سے مزین اشیا، اور سونے، چاندی و ہیروں کے زیورات کی مبینہ لوٹ ٹرسٹ کی جانب سے مقرر کردہ افراد کے ذریعے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے ٹرسٹ میں زیادہ تر آر ایس ایس، وی ایچ پی، ای ڈی پارٹی اور ان سے وابستہ تنظیموں کے افراد اور آئی اے ایس افسران کو شامل کیا تھا، اس کے باوجود آج کروڑوں روپے کی مبینہ لوٹ کے الزامات سامنے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر کوئی شخص اس مبینہ لوٹ پر پریشان نہیں ہے اور اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس کا بھگوان رام، ہندو دھرم، ہندوتوا اور سناتن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا شخص صرف ای ڈی پارٹی کے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے، اس کا بھگوان رام یا ہندو دھرم سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ایسے تمام لوگوں کو یہی سرٹیفکیٹ دینا چاہتے ہیں، اسے سنبھال کر رکھ لیجیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande