سوامی اویمکتیشورانند نے سنبھل میں کہا – بی جے پی کا ہندوتوا نقلی ہے
سنبھل، 26 جون (ہ س)۔ جیوترپیٹھادھیشور جگدگرو شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے بی جے پی کے ہندوتوا کو نقلی قرار دیا۔ انہوں نے سنبھل ضلع میں ایک تیرتھ استھل کو مسلمانوں کے زیر قبضہ جگہ سے بحال کرنے کے حکومتی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک
نقلی


سنبھل، 26 جون (ہ س)۔ جیوترپیٹھادھیشور جگدگرو شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے بی جے پی کے ہندوتوا کو نقلی قرار دیا۔ انہوں نے سنبھل ضلع میں ایک تیرتھ استھل کو مسلمانوں کے زیر قبضہ جگہ سے بحال کرنے کے حکومتی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک اچھا قدم قرار دیا۔

جگد گرو شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی گایوں کی حفاظت کے لیے اپنی 81 روزہ گوشٹھی یاترا کے حصہ کے طور پر آج سنبھل پہنچے۔ انہوں نے 3 مئی کو اپنا سفر شروع کیا اور اتر پردیش کے تمام 403 اسمبلی حلقوں تک پہنچنے کا ارادہ کیاہے۔ انہوں نے صبح 8:40 بجے سنبھل شہر کے رائیستی تھانہ علاقے میں مراد آباد روڈ پر ایک بینکوئٹ ہال میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔

سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے سنبھل ضلع میں ایک زیارت گاہ کو بحال کرنے کے حکومتی اقدام کی تعریف کی اور اسے ایک اچھا قدم قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کے ہندوتوا موقف پر سوال اٹھایا جب کاشی میں قدیم مندروں اور ان کی مورتیوں کو تباہ کیا گیا۔ کاشی کے مندر جو کہ ہندوو¿ں کی ملکیت تھے، گرا کر نالے میں پھینک دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔

سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے الزام لگایا کہ وہ لوگ اورنگ زیب سے بھی زیادہ ہندوو¿ں کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ کو ”نقلی“ قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ ویدوں کو نہیں مانتے وہ ”نقلی ہندو“ ہیں۔ انہوں نے اپنے لیکچر میں اس کا ثبوت بھی فراہم کیا۔ سوامی نے کہا کہ سچے ہندو ویدوں، صحیفوں اور اپنے گرووں پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ یہ لوگ نہیں مانتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سچے ہندوعقیدت مند ایک بیوی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جنس پرستی اور زنا کو جرم نہ قرار دینے والے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ چھوٹ ہندو ثقافت کے مطابق ہے؟

سوامی اویمکتیشورانند نے مزید کہا کہ جب کوئی پارٹی ہندو ثقافت کے خلاف کام کرتی ہے، تو اس پر نقلی ہندو کا لیبل لگا دیا جاتاہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جماعتیں عوامی طور پر خود کو ہندو پارٹیاں کہتی ہیں، جب کہ الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے اپنے حلف نامے میں وہ خود کو سیکولر پارٹیاں قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام جماعتیں سیکولر ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن سیکولر حلف کے بغیر رجسٹریشن نہیں کرتا۔ انہو نے اس تضاد کو ”پہلا جھوٹ“ قرار دیا۔

سوامی اویمکتیشورانند نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک تکنیکی ضرورت ہے، اگر ان کے طرز عمل ہندو مذہب کے خلاف ہیں تو انہیں ہندو فریق کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایسی جماعتیں ہندومت کے خلاف کام کر رہی ہیں اور ہندوازم کا نام استعمال کر رہی ہیں، اس لیے وہ نقلی ہندو ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande