
علی گڑھ, 26 جون (ہ س)۔
مرکزی حکومت کی عوامی فلاحی پالیسیوں کے تحت قومی اطفال صحت پروگرام (آر بی ایس کے) پیدائشی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو رہا ہے۔ یہ اسکیم معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں کو مہنگے علاج کی فکر سے نجات دلا کر مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
شہنشاہ آباد جمال پور کی 12 سالہ سدرا طویل عرصے سے پیدائشی دل کی بیماری میں مبتلا تھیں۔ اہل خانہ نے متعدد نجی اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے علاج کرایا، لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔ علاج کے بڑھتے اخراجات اور بچی کے ہونٹوں اور ناخنوں کا نیلا پڑ جانا والدین کے لیے شدید تشویش کا باعث تھا۔ بعد ازاں میڈیکل کالج میں منعقدہ امراضِ قلب کیمپ کے ذریعے خاندان کو آر بی ایس کے اسکیم کی معلومات ملیں، جس کے تحت سدرا کا مفت علاج کیا گیا۔ علاج کے بعد اس کی صحت میں نمایاں بہتری آئی، جس پر اہل خانہ نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔
اسی طرح جے گنج کی 14 ماہ کی آرادھیا بھی پیدائشی دل کی بیماری کا شکار تھی۔ دودھ پینے میں دشواری اور رونے کے دوران جسم کا نیلا پڑ جانا اس کی بیماری کی علامات تھیں۔ مختلف مقامات پر علاج کرانے کے باوجود افاقہ نہ ہونے پر محلے کی آشا کارکن نے خاندان کو آر بی ایس کے پروگرام سے جوڑا۔ اسکیم کے تحت بچی کا مفت علاج ممکن ہوا اور آج آرادھیا صحت مند زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے اہل خانہ نے حکومت کی اس عوام دوست اسکیم پر اظہارِ تشکر کیا۔
چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر آر این سنگھ نے کہا کہ قومی اطفال صحت پروگرام یہ ثابت کر رہا ہے کہ سرکاری فلاحی منصوبے معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ کر نہ صرف معصوم جانوں کو بچا رہے ہیں بلکہ ضرورت مند خاندانوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بھی لوٹا رہے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ