


محرم کے جلوس میں گونجا کربلا کا پیغام، پوسٹروں پر لکھا- دہشت گردی ہر جگہ امن کے لیے خطرہ
بھوپال، 26 جون (ہ س)۔
محرم کے موقع پر جمعہ کو دارالحکومت بھوپال میں کربلا کی شہادت کی یاد میں ماتمی جلوس نکالے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے ان جلوسوں میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شامل ہوئے۔ تعزیے، علم، براق اور اسلامی پرچموں کے ساتھ نکلنے والے جلوسوں میں کربلا کے پیغام کو موجودہ واقعات سے جوڑتے ہوئے فلسطین، پہلگام، منی پور اور ایران کا ذکر کرنے والے پوسٹر بھی توجہ کا مرکز رہے۔ پوسٹروں پر ’’کربلا- ظلم کے خلاف آواز‘‘ اور ’’دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی، ہر جگہ امن کے لیے خطرہ ہے‘‘ جیسے پیغامات لکھے تھے۔ کچھ نوجوانوں نے اپنی ٹی شرٹ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر بھی لگا رکھی تھی۔
صبح سے فتح گڑھ، امامی گیٹ، حمیدیہ روڈ اور کروند سمیت کئی علاقوں سے ماتمی جلوس نکلے۔ دوپہر میں تمام جلوس امامی گیٹ چوراہے پر پہنچے، جہاں مختلف انجمنوں نے اجتماعی ماتم کیا۔ اس کے بعد جلوس وی آئی پی روڈ پر واقع کربلا کے لیے روانہ ہوئے۔ فتح گڑھ امام باڑے سے نکلنے والے جلوس میں بڑی تعداد میں عقیدت مند ننگے پاوں ہاتھوں میں علم لیے ’’یا حسین‘‘ کی صداوں کے درمیان چلتے رہے۔ راستے میں لوگوں نے خدمت کے جذبے سے ان کے پیروں پر پانی ڈال کر گرم سڑک سے راحت پہنچائی۔ جلوس کے دوران اہم چوراہوں پر علماء نے کربلا کی جنگ، حضرت امام حسینؓ کی شہادت اور ان کی جدوجہد پر تقریریں کیں۔ مقررین نے کہا کہ امام حسین کا پیغام صرف ایک برادری کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے انصاف، سچائی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔
بھوپال ٹاکیز سے نکلنے والے جلوس میں تقریر کے دوران مولانا محمد عباس نے کہا کہ جس طرح یزید امام حسین کے مشن کو ختم کرنا چاہتا تھا، اسی طرح آج بھی کچھ طاقتیں نظریات کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے سید علی خامنہ ای کے حوالے سے کہا، ’’جان لی جا سکتی ہے، لیکن فکر اور نظام کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ امام حسین کی شہادت انسانیت، انصاف اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا پیغام دیتی ہے۔ ساتھ ہی پرامن انعقاد کے لیے انتظامیہ اور پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا۔ سید ارشد حسین نے بتایا کہ محرم کا دن حضرت امام حسین اور ان کے 72 ساتھیوں کی شہادت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام ہر دور میں ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور مظلوموں کا ساتھ دینا انسانیت کا سب سے بڑا فرض ہے۔
محرم کے جلوسوں کے پیشِ نظر پولیس نے پرانے شہر میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے۔ بھارت ٹاکیز، الپنا تراہا، نادرا بس اسٹینڈ، بھوپال ٹاکیز، شاہجہاں آباد، رائل مارکیٹ، کوہِ فضا اور کربلا کے علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی۔ کئی راستوں پر ٹریفک کا رخ موڑا گیا اور بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ شام کو چھوٹے تالاب گھاٹ پر تعزیوں کو ٹھنڈا کیا گیا، جس کے لیے پولیس اور انتظامیہ پہلے سے ہی مستعد تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن