'سمودھان ہتیا دیوس پر نائب صدر جمہوریہ اور مرکزی وزراء نے ایمرجنسی کو جمہوریت کا سیاہ باب قرار دیا
نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ ''سمودھان ہتیا دیوس کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر سرکردہ رہنماؤں نے 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا اور جمہوریت کے تحفظ
VP-Union-ministers-Constitution-Murder-Day-Emergen


نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ 'سمودھان ہتیا دیوس کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر سرکردہ رہنماؤں نے 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کو ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے لڑنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

نائب صدر جمہوریہ ہند رادھا کرشنن نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فار م ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایمرجنسی آئین اور جمہوری اقدار کے لیے سخت امتحان کا دور تھا، جب شہری آزادیوں کو معطل کیا گیا تھا، اظہار رائے کی آزادی سلب کی گئی تھی اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا گیا تھا۔ انہوں نے آئینی اصولوں کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کرنے کی اپیل کی۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، آزادی صحافت کو دبایا گیا اور ہزاروں سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن جمہوریت اور آئینی اقدار سے ملک کے عزم کو مضبوط کرنے کا موقع ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی امداد امت شاہ نے کہا کہ 25 جون 1975 ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور کانگریس پارٹی کے اقتدار کے گھمنڈ نے آئین کی روح، پریس کی آزادی اور اظہار رائے کے حق کو کچلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ '’سمودھان ہتیا دیوس‘کا مقصد اس واقعے کو قومی یادوں میں زندہ رکھنا اور مستقبل میں جمہوریت پر اس طرح کی ضربوں کو روکنا ہے۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا کہ 25 جون 1975 وہ دن تھا، جب ا قتدارکے گھمنڈ نے آئین کی روح کو پامال کرتے ہوئے ملک پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 'آئین قتل دن' ہمیں آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی قومی ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے کہا کہ کئی دہائیوں سے ملک کی اجتماعی یاد سے ایمرجنسی کے باب کو مٹانے کی کوشش کی گئی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 25 جون کو سمودھان ہتیا دیوس کے طور پر منانے کا فیصلہ کرکے تاریخ کے ساتھ انصاف کیا گیا۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ایمرجنسی کو ہندوستانی جمہوریت اور آئین کے لیے سب سے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران شہری حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، آزادی صحافت پر قدغن لگائی گئی اور جمہوری نظام کو شدید دھچکا لگا۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ ایمرجنسی نے آئین کی بنیادی روح، شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کو شدید دھچکا پہنچایا۔ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام مجاہدین آزادی کو سلام پیش کیا۔

راجستھان کے وزیر اعلی بھجن لال شرما نے کہا کہ 1975 میں نافذ کی گئی ایمرجنسی جمہوری اقدار پر سب سے بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سمودھان ہتیا دیوس‘‘ جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی کوششوں، ہمت اور قربانی کو یاد کرنے کا موقع ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے 25 جون 1975 کو نافذ ایمرجنسی کی یاد میں ہر سال 25 جون کو سمودھان ہتیا دیوس کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دن ان لوگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande