زرعی ترقی کے لیے مرکز اور یوپی حکومت کا مشترکہ جائزہ
لکھنو میں بنے گاکلینپلانٹ سنٹر، یوپی حکومت نے 2047 کے لیے روڈ میپ تیار کیا چنے، دال اور سرسوں کی خریداری کی مدت بڑھانے کی منظوری: شیوراج سنگھ چوہان مرکزی وزیر نے پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین) کے اگلے مرحلے کے لیے 6.18 لاکھ اہل مستفیدین کی فہر
شو


لکھنو میں بنے گاکلینپلانٹ سنٹر، یوپی حکومت نے 2047 کے لیے روڈ میپ تیار کیا

چنے، دال اور سرسوں کی خریداری کی مدت بڑھانے کی منظوری: شیوراج سنگھ چوہان

مرکزی وزیر نے پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین) کے اگلے مرحلے کے لیے 6.18 لاکھ اہل مستفیدین کی فہرست وزیر اعلیٰ کو سونپی

زراعت کے شعبے میں اختراع، تنوع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو نئی تحریک ملے گی: وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ

لکھنو، 25 جون (ہ س) مرکزی زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اتر پردیش کے باغبانی کے شعبے کو ایک نئی تحریک دینے کے لیے لکھنو میں کلین پلانٹ سنٹر کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسانوں کو معیاری، تصدیق شدہ اور بیماریوں سے پاک پودے فراہم کرنا ہے، جس سے باغبانی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

یہ اعلان جمعرات کو لکھنو میں یوجنا بھون کے ویچارکی آڈیٹوریم میں منعقدہ میٹنگ کے دوران کیا گیا، جہاں مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مشترکہ طور پر ریاست کے زرعی روڈ میپ، زرعی شعبے سے متعلق مرکزی اور ریاستی اسکیموں اور دیہی ترقی کے پروگراموں کا جائزہ لیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اتر پردیش کو کبھی ایک بیمار ریاست سمجھا جاتا تھا لیکن آج وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں یہ ترقی کے نئے معیار قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے زرعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور کسانوں کی فلاح و بہبود میں نمایاں ترقی کی ہے۔

کسانوں کے مفاد میں ایک اور اہم فیصلہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر نے چنے، دال اور سرسوں کی سرکاری خریداری کی مدت میں توسیع کو منظوری دی۔ انہوں نے منظوری کا خط وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سونپا۔ اس کے لیے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سے زیادہ کسانوں کو اپنی پیداوار کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر فروخت کرنے کا موقع ملے گا اور ان کی آمدنی کی حفاظت کو مضبوط کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر کی لکھنو آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین) کے تحت نئے مکانات کی منظوری، دالوں اور تیل کے بیجوں کی فصلوں کی خریداری کی مدت میں توسیع اور کلین پلانٹ سینٹر کے قیام جیسے فیصلے کسانوں اور ریاست کی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور شیوراج سنگھ چوہان کی رہنمائی میں ملک کا زرعی شعبہ ایک نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر شیوراج سنگھ چوہان کے طویل تجربے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی قیادت میں مدھیہ پردیش نے زرعی شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور اب پورا ملک ان کے تجربے سے مستفید ہو رہا ہے۔

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ذریعہ تیار کردہ وکست کرشی @ 2047: اتر پردیش ایکشن پلان پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی۔ آئی سی اے آر کے ڈائرکٹر جنرل نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے آب و ہوا کے موافق ترقی، زرعی تنوع، سائنس پر مبنی کھیتی، وسائل پر مبنی منصوبہ بندی، ویلیو چین کی مضبوطی اور زرعی شعبے میں مربوط حکومتی انتظامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ اتر پردیش کی زراعت اور اس سے منسلک شعبے کی معیشت اس وقت تقریباً 7.41 ٹریلین روپے کی ہے۔ 2047 تک اسے 96.96 ٹریلین تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ زرعی ترقی کی شرح کو موجودہ 3.19 فیصد سے بڑھا کر 5.41 فیصد کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

ایکشن پلان کے مطابق مستقبل کی زراعت صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے، ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ، برآمدی صلاحیت اور زراعت پر مبنی صنعتوں کی ترقی پر بھی یکساں توجہ مرکوز کرے گی۔ اس منصوبے کا مقصد چاول اور گندم پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو کم کرنا اور دالوں، تیل کے بیجوں، موٹے اناج، مکئی، باغبانی اور دیگر اعلیٰ قیمت والی فصلوں کو فروغ دینا ہے۔

آئی سی اے آر نے مکئی، دالوں، تیل کے بیجوں، چاول، گندم، گنے، پھلوں اور سبزیوں کے لیے الگ الگ طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی پیش کی۔ آب و ہوا کے لیے لچکدار ہائبرڈ بیج، ڈرپ اریگیشن، مائیکرو اریگیشن تکنیک، سائنسی غذائیت کے انتظام، پروسیسنگ یونٹس اور مضبوط ویلیو چینز کی ترقی پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی بھی سفارش کی گئی۔ 2047 تک زرعی میکانائزیشن کو 75 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، ریموٹ سینسنگ اور ڈیجیٹل ایگریکلچر پلیٹ فارمز کے استعمال کو فروغ دینے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

ایکشن پلان میں ہر ضلع میں ڈیجیٹل ایگریکلچر اور اے آئی پلیٹ فارمز، پریزین ایگریکلچر لیبارٹریز، سوائل واٹر کاربن آبزرویٹریز، بائیو ریسورس سینٹرز اور زرعی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

میٹنگ کے دوران محکمہ زراعت کی مختلف اسکیموں کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے زرعی تنوع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف سوائل ہیلتھ کارڈ بنانا کافی نہیں ہے۔ کسانوں کو ان کی زمین کی اصل حالت، غذائی اجزاء کی دستیابی اور کھاد کے متوازن استعمال کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ سوائل ہیلتھ کارڈ کا موثر استعمال کر سکیں۔

نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی، وزیر مملکت برائے زراعت بلدیو سنگھ اولکھ، وزیر مملکت برائے محصول سریندر دلیر اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے کئی سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔

زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پیش کردہ ایکشن پلان کو مو¿ثر طریقے سے لاگو کیا جاتا ہے، تو اتر پردیش نہ صرف ملک میں زرعی پیداوار میں سرفہرست رہے گا، بلکہ زراعت پر مبنی معیشت اور کسانوں کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ درج کر سکے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande