
نئی دہلی، 25 جون (ہ س)۔ فلم اداکارہ جیکولین فرنانڈیز نے 217 کروڑ روپے کی وصولی کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی اپنی درخوست سپریم کورٹ سے واپس لے لی ہے ۔ جسٹس بی وی ناگرتنا کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ نے جیکولین کو دستیاب قانونی اختیارات پر عمل کرنے کی اجازت دی۔
اس سے قبل 11 جون کو جسٹس پرشانت کمار مشرا نے درخواست کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے اس معاملے میں جیکولین کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے سکیش چندر شیکھر اور ان کی اہلیہ لینا پال کے خلاف الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ نے ان ملزمان کے خلاف ایم سی او سی اے کی دفعہ 3 اور 4، دفعہ 170، 186، 384، 386، 388، 406، 409، 420، 468، 471 اور 120بی اور تعزیرات ہند کی دفعہ 66 کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس معاملے میں، دہلی پولیس نے ادیتی سنگھ کی شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ سکیش نے ادیتی سنگھ سے 57 کروڑ روپے وصول کرنے کا اعتراف کیا، لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ اسے 80 کروڑ روپے ملے ہیں۔ ای ڈی نے کہا کہ سکیش اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے لینڈ لائن سے ادیتی سنگھ کو پہلی کال کی۔ ای ڈی نے کہا کہ سکیش نے انکشاف کیا کہ اس رقم کا استعمال کار، لگڑری اشیاءاور تحائف خریدنے میں کیا گیا تھا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، سکیش نے غیر قانونی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے جیکولین کے لیے تحائف خریدے جو اس نے شیویندر سنگھ کی بیوی، ادیتی سنگھ اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل کیے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق، سکیش نے اس جرم کا منصوبہ بنایا اور اس کو انجام دیا۔ دہلی پولیس نے سکیش چندر شیکھر پر انسداد بدعنوانی ایکٹ ( ایم سی او سی اے) کے تحت فرد جرم عائد کی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی