
ممبئی ، 25 جون (ہ س) مہاراشٹر کے ضلع پونے کے بھور تعلقہ کے نسرپور علاقے میں ساڑھے تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے سنسنی خیز معاملے میں خصوصی عدالت نے جمعرات کو ملزم بھیمراؤ کامبلے کو قصوروار قرار دے دیا۔ عدالت نے سزا کے اعلان کے لیے 29 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ یکم مئی 2026 کو نسرپور کے ایک گاؤں میں پیش آیا تھا۔
سرکاری وکیل اجئے مسر نے عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ آج دلائل مکمل کر لیے گئے ہیں اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ انہوں نے عدالت کے روبرو 12 اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرم ریئرسٹ آف دی ریئر کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ نہایت غیر انسانی، بے حد سفاک اور معاشرے کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ چند ہی منٹوں میں بچی کے جسم پر 18 سنگین زخم آئے۔ یہ تصور بھی تکلیف دہ ہے کہ متاثرہ بچی نے ان زخموں کے باوجود زندہ رہنے کی کوشش کی، مگر ملزم نے کوئی رحم نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور وقتاً فوقتاً ان میں ترامیم بھی کی گئی ہیں، لیکن ایسے جرائم اب بھی ہو رہے ہیں، اس لیے معاشرے کو سخت پیغام دینا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر سرکاری وکیل نے ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ عدالت اب پیر، 29 جون کو سزا کا اعلان کرے گی اور اس دن مزید بحث نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ یکم مئی 2026 کو نسرپور میں ساڑھے تین سالہ بچی لاپتہ ہوگئی تھی۔ بعد میں اسے ایک گوشالہ (مویشیوں کے باڑے) میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔ جب بچی کافی دیر تک گھر واپس نہیں آئی تو اہل خانہ نے تلاش شروع کی، جس کے بعد اس کی لاش ملنے سے پورا علاقہ دہل اٹھا۔ اس واقعے کے بعد نسرپور اور پونے ضلع میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ دیہاتیوں نے سڑکیں بند کر کے ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پونے کے نوَلے پل علاقے میں بھی لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تفتیش شروع کی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر یہ واضح ہوا کہ ملزم بچی کو لے جا رہا تھا، جس کے بعد پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اسے گرفتار کر لیا۔ اس کیس کی تیز رفتار تفتیش کے لیے ضلع پونے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سندیپ گل نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ عوامی غصے کے پیش نظر پولیس نے کارروائی میں مزید تیزی لائی اور صرف 16 دنوں میں تقریباً 1200 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی۔ اس کے بعد خصوصی عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر اور اِن کیمرہ سماعت شروع کی۔
اس مقدمے میں عینی شاہدین، تفتیشی افسران، طبی ماہرین اور دیگر افراد سمیت کل 55 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے علاوہ عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی این اے رپورٹ اور دیگر سائنسی شواہد بھی پیش کیے گئے۔
ابتدائی طور پر ملزم نے اپنے خلاف الزامات کو جھوٹا قرار دیا، تاہم سرکاری وکیل نے طبی رپورٹ اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ملزم کو واقعے کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا تھا، 16 مئی کو چارج شیٹ داخل کی گئی، 28 مئی کو فردِ جرم عائد کی گئی، اور مسلسل سماعت کے بعد تقریباً 50 دنوں میں اس کیس کے فیصلے کی نوبت آئی۔ اس تیز رفتار کارروائی کے باعث یہ مقدمہ ملک کے سنگین جرائم کے نمایاں کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے