کولکاتا گودام حادثے میں مالک سمیت پانچ گرفتار، مہلوکین کی تعداد پانچ ہوئی
کولکاتا، 25 جون (ہ س)۔ کولکاتا کے تاراتلا علاقے میں زیرِ تعمیر گودام کی چھت گرنے کے واقعے میں پولیس نے گودام کے مالک شمبھوناتھ بیہرا سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا ہے۔
راحت اور بچاو کام کے دوران کا منظر


کولکاتا، 25 جون (ہ س)۔ کولکاتا کے تاراتلا علاقے میں زیرِ تعمیر گودام کی چھت گرنے کے واقعے میں پولیس نے گودام کے مالک شمبھوناتھ بیہرا سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا ہے۔ حادثے میں اب تک پانچ مزدوروں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 24 زخمی مزدوروں کا ایس ایس کے ایم اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ ان میں دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، بدھ کی دیر رات تاراتلا علاقے کے ہی ایک رہائشی احاطے سے گودام کے مالک شمبھوناتھ بیہرا کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے پہلے پولیس نے گودام کے سپروائزر سمیت تقریباً نو لوگوں کو حراست میں لے کر تاراتلا تھانے میں پوچھ گچھ کی تھی۔ پوچھ گچھ کے بعد شمبھوناتھ سمیت کل پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

گرفتار ملزمان میں اسٹرکچرل انجینئر کمل سامنت، گودام کا سپروائزر سید محمد گلزار، لیبر سپلائر محمد عطاال اور سبھاش سرکار شامل ہیں۔ پولیس یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ گودام کی تعمیر میں حفاظتی معیارات پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں اور چھت گرنے کے پیچھے تعمیراتی لاپرواہی کا کیا کردار رہا۔

جمعرات کی صبح بھی جائے وقوعہ پر نیشنل اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس کے اہلکار راحت اور بچاو کام میں مصروف رہے۔ خدشہ ہے کہ ملبے کے اندر اب بھی کچھ لوگ پھنسے ہو سکتے ہیں۔ بھاری ہائیڈرولک کرین کی مدد سے گرے ہوئے ڈھانچے کو سہارا دے کر بچاو مہم چلائی جا رہی ہے۔ اب تک جائے وقوعہ سے کل 29 لوگوں کو باہر نکالا جا چکا ہے۔

تاراتلا حادثے کی جانچ کے لیے پولیس نے خصوصی جانچ ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم میں کولکاتا پولیس کے محکمۂ سراغ رساں کے اسسٹنٹ کمشنر سطح کے ایک افسر، ہومیسائیڈ برانچ کے تھانہ انچارج، محکمۂ سراغ رساں کے چار افسران اور تاراتلا تھانے کے دو سب انسپکٹر شامل کیے گئے ہیں۔ جانچ کی نگرانی محکمۂ سراغ رساں کے ڈپٹی کمشنر کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande