(خصوصی انٹرویو) ناظرین کو ہنسانا کسی بھی فنکار کی سب سے بڑی کامیابی ہے: اکشے کمار
بالی ووڈ میں کامیڈی فلموں کی اپنی ایک الگ پہچان رہی ہے۔ ایسی فلمیں نہ صرف ناظرین کو ہنساتی ہیں بلکہ طویل عرصے تک ان کی یادوں کا حصہ بھی بنی رہتی ہیں۔ جب بات ویلکم فرنچائز کی ہو تو ناظرین کی امیدیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اب ویلکم ٹو دی جنگل کے ذریعے ایک
(خصوصی انٹرویو) ناظرین کو ہنسانا کسی بھی فنکار کی سب سے بڑی کامیابی ہے: اکشے کمار


بالی ووڈ میں کامیڈی فلموں کی اپنی ایک الگ پہچان رہی ہے۔ ایسی فلمیں نہ صرف ناظرین کو ہنساتی ہیں بلکہ طویل عرصے تک ان کی یادوں کا حصہ بھی بنی رہتی ہیں۔ جب بات ویلکم فرنچائز کی ہو تو ناظرین کی امیدیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اب ویلکم ٹو دی جنگل کے ذریعے ایک بار پھر ہنسی اور تفریح کا بڑا دھماکہ ہونے جا رہا ہے۔ فلم میں ایک بار پھر کئی بڑے ستارے ایک ساتھ نظر آئیں گے، جن میں اکشے کمار، سنیل شیٹی، دشا پٹانی، ارشد وارثی سمیت کئی فنکار شامل ہیں۔

ویلکم ٹو دی جنگل کے فنکاروں نے ہندوستان سماچار سے خصوصی گفتگو میں فلم سے جڑی دلچسپ یادیں شیئر کیں۔ انہوں نے اپنے کرداروں، شوٹنگ کے تجربات اور فلم کی خاص باتوں پر گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ کے بدلتے دور، فلم انڈسٹری میں رشتوں کی اہمیت اور کامیڈی کی باریکیوں پر بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پیش ہیں گفتگو کے اہم اقتباسات۔

اکشے کمار

سوال: ایکشن سے لے کر ڈرامہ تک ہر صنف میں آپ نے اپنی شناخت بنائی ہے، لیکن ناظرین کے درمیان آپ کی کامیڈی فلموں کا الگ ہی جنون دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ اس خاص تعلق کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔ میں نے اپنے کیریئر میں ایکشن، رومانس، ڈرامہ اور سماجی موضوعات پر مبنی کئی فلمیں کی ہیں، لیکن کامیڈی کا اپنا الگ جادو ہوتا ہے۔ جب کوئی کردار لوگوں کو ہنساتا ہے تو وہ ان کے دل میں بس جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری کئی کامیڈی فلموں کے کردار آج بھی ناظرین کو یاد ہیں۔ ایک فنکار کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ برسوں بعد بھی لوگ اس کے کرداروں کو یاد کرکے مسکرائیں۔

سوال: ویلکم ٹو دی جنگل جیسی کئی ستاروں والی کامیڈی فلم میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: بے حد شاندار۔ اتنے سارے فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا اپنا الگ مزہ ہوتا ہے۔ سیٹ پر ہر دن کچھ نیا ہوتا تھا۔ کئی مرتبہ اسکرپٹ میں جو لکھا ہوتا تھا، اس سے کہیں زیادہ مزاحیہ چیزیں فنکاروں کے فطری ردِعمل سے سامنے آتی تھیں۔ یہی کامیڈی کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ناظرین کو بھی فلم میں وہی توانائی اور تفریح دیکھنے کو ملے گی جو ہم نے شوٹنگ کے دوران محسوس کی۔

سنیل شیٹی

سوال: 90 کی دہائی اور آج کی فلم انڈسٹری میں سب سے بڑا فرق آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

جواب: تبدیلی وقت کے ساتھ آتی ہی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ پہلے فلم انڈسٹری میں باہمی تعلق زیادہ مضبوط تھا۔ کسی فلم کا پریمیئر ہوتا تھا تو تقریباً پورا فلمی خاندان وہاں موجود رہتا تھا۔ فنکار ایک دوسرے کی کامیابی کا دل سے جشن مناتے تھے۔ آج سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اب کئی بار فلموں سے زیادہ ڈیجیٹل موجودگی موضوعِ بحث بن جاتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ انڈسٹری کی وہ خاندانی کیفیت اور اپنائیت دوبارہ مضبوط ہونی چاہیے۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ نئی نسل کے فنکاروں کو اس دور سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے؟

جواب: بالکل۔ محنت اور صلاحیت ہر دور میں ضروری رہی ہے، لیکن رشتوں کو اہمیت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جب فنکار ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو پوری انڈسٹری مضبوط ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے وقت میں یہ جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔

دشا پٹانی

سوال: ویلکم ٹو دی جنگل کو آپ کی پہلی بڑی کامیڈی فلم مانا جا رہا ہے۔ اس صنف میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: میرے لیے یہ ایک نیا اور انتہائی دلچسپ تجربہ تھا۔ کامیڈی باہر سے جتنی آسان نظر آتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی مشکل ہوتی ہے۔ اس میں صرف مکالمے بولنا کافی نہیں ہوتا بلکہ چہرے کے تاثرات، جسمانی انداز اور صحیح وقت پر ردِعمل دینا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابتدا میں تھوڑی گھبراہٹ تھی کیونکہ میرے ساتھ اتنے تجربہ کار فنکار تھے، لیکن پوری ٹیم نے مجھے بہت آسانی محسوس کرائی۔

سوال: سیٹ پر کس نے سب سے زیادہ مدد کی؟

جواب: ہدایت کار احمد سر کا بہت بڑا تعاون رہا۔ وہ فنکاروں کو کھل کر کام کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پوری کاسٹ بہت تعاون کرنے والی تھی۔ شوٹنگ کے دوران ہم سب ایک خاندان کی طرح ہو گئے تھے۔ ارشد وارثی سر اور باقی فنکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ کئی بار شوٹنگ کے دوران ایسے مزاحیہ واقعات ہو جاتے تھے کہ ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔

سوال: ناظرین کو اس فلم میں آپ کے کردار سے کیا امید رکھنی چاہیے؟

جواب: میں صرف اتنا کہوں گی کہ ناظرین مجھے ایک بالکل مختلف انداز میں دیکھیں گے۔ یہ کردار میرے لیے بھی نیا ہے اور مجھے امید ہے کہ لوگ اسے پسند کریں گے۔ فلم میں تفریح، مزاح اور کئی سرپرائز موجود ہیں۔

سوال: سیٹ پر سب سے زیادہ شرارتی کون تھا؟

اکشے کمار (ہنستے ہوئے): انا یعنی سنیل شیٹی باہر سے جتنے پرسکون دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں اتنے ہیں نہیں۔ وہ ہمیشہ سوچتے رہتے ہیں کہ کس کے ساتھ کیا مذاق کیا جائے۔ اگر آپ نے اپنی چپل کہیں چھوڑ دی تو ممکن ہے وہ واپس ہی نہ ملے۔ کئی بار شرارت کی پوری منصوبہ بندی انہی کی ہوتی ہے اور اسے انجام ہم لوگوں سے دلوایا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande