
جموں, 20 جون (ہ س)۔ جموں، ادھم پور اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں باشندوں کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والا سوریا پتری توی دریا شدید آلودگی کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے، کیونکہ 26 نالوں سے نکلنے والا تقریباً غیر صاف شدہ سیوریج، گھریلو، صنعتی اور دیگر زہریلا فضلہ براہِ راست دریا میں ڈالا جا رہا ہے، جس سے یہ آبی ذخیرہ بتدریج ایک بڑے گندے نالے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے مطابق توی دریا میں آلودگی کی بنیادی وجوہات جموں شہر کا غیر صاف شدہ سیوریج، میونسپل ٹھوس فضلہ، تعمیراتی ملبہ اور مختلف صنعتی و تجارتی اداروں سے خارج ہونے والے آلودہ مادے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دریا میں مجموعی طور پر 26 نالے براہ راست شامل ہوتے ہیں، جن میں 20 نالے دائیں جانب اور 6 بائیں جانب سے آ کر توی میں گرتے ہیں۔ گجر نگر علاقہ آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سے آٹھ نالے، بشمول مرکزی گجر نگر نالہ، دریا میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈھونتھلی، پیر کھو، جوگی گیٹ، پریم نگر، کرسچین کالونی، قاسم نگر، ریہڑی، کرشنا نگر، راجندر نگر اور بھگوتی نگر کے نالے بھی براہ راست تاوی میں گرتے ہیں۔
پولوشن کنٹرول کمیٹی کے حکام نے بتایا کہ سیوریج نظام، نالوں کی موڑ بندی اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کے انتظام کی ذمہ داری جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی)، اربن انوائرمنٹل انجینئرنگ محکمہ (یو ای ای ڈی) اور جل شکتی محکمہ پر عائد ہوتی ہے۔حکام کے مطابق اگرچہ مختلف مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں، تاہم کئی پلانٹس یا تو مکمل طور پر غیر فعال ہیں یا مناسب انداز میں کام نہیں کر رہے۔ ادھم پور کے ایس ٹی پیز اس وقت بند حالت میں ہیں، جبکہ جگتی-نگروٹہ اور بھگوتی نگر کے پلانٹس کو مستقل دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
جے کے پی سی سی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ سیوریج کے اخراج اور اس کی صفائی کے درمیان موجود خلا کو جلد از جلد پُر کیا جائے اور بڑے منصوبوں کے بجائے موجودہ سیوریج لائنوں پر چھوٹے ایس ٹی پیز قائم کیے جائیں تاکہ وقت اور وسائل کی بچت ہو سکے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ صاف شدہ پانی کو آبپاشی، تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، بجائے اس کے کہ اسے دوبارہ دریاؤں میں چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فضلے کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر دریاؤں میں ڈالا جاتا رہا تو پانی کی آلودگی ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر