نویں جماعت کی طالبہ کی کم عمری کی شادی رکوائی گئی، دامنی دستے کی بروقت کارروائی
اورنگ آباد ، 20 جون (ہ س)۔ اورنگ آباد ضلع میں پولیس کے دامنی دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ایک کم عمر لڑکی کی شادی رکوا دی۔ اطلاعات کے مطابق جامبھلا تانڈہ علاقے میں شادی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اور دلہا
نویں جماعت کی طالبہ کی کم عمری کی شادی رکوائی گئی، دامنی دستے کی بروقت کارروائی


اورنگ آباد ، 20 جون (ہ س)۔ اورنگ آباد ضلع میں پولیس کے دامنی دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ایک کم عمر لڑکی کی شادی رکوا دی۔ اطلاعات کے مطابق جامبھلا تانڈہ علاقے میں شادی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اور دلہا و دلہن اسٹیج پر موجود تھے، اسی دوران دامنی دستہ موقع پر پہنچ گیا اور کارروائی کرتے ہوئے شادی کو روک دیا۔

پولیس کی جانچ میں معلوم ہوا کہ متعلقہ لڑکی نویں جماعت کی طالبہ ہے اور اس کی عمر 18 سال سے کم ہے، جس کے باعث اس کی شادی قانونی طور پر ممنوع تھی۔ مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لڑکی کے خاندان کی معاشی حالت انتہائی کمزور ہے۔ والدین کو امید تھی کہ گھر داماد ملنے سے خاندان کو سہارا حاصل ہوگا، اسی مقصد کے تحت انہوں نے کم عمری میں بیٹی کی شادی کا فیصلہ کیا تھا۔

خاتون و اطفال ترقی کمیٹی کے اراکین کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کے بعد پولیس نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیا۔ دامنی دستے نے موقع پر پہنچ کر شادی کی تقریب رکوا دی اور متعلقہ فریقین کو قانونی ضوابط سے آگاہ کیا۔ پولیس حکام کے مطابق بروقت مداخلت کے نتیجے میں ایک کم عمر لڑکی کا بچپن اور تعلیم محفوظ ہو گئی۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیں اور کم عمری کی شادی جیسے غیر قانونی اقدامات سے گریز کریں۔

پولیس نے کہا کہ کم عمر بچوں کی شادی روکنے کے لیے آئندہ بھی اسی طرح سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande