لداخ کے رہنماؤں نے سونم وانگچک کی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کا دفاع کیا۔
جموں, 20 جون (ہ س)۔ لداخ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی دہلی میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس پروگرام میں اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے تھے اور ان کی
Wangchuk


جموں, 20 جون (ہ س)۔

لداخ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی دہلی میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس پروگرام میں اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوئے تھے اور ان کی قومی سطح کی سرگرمیاں لداخ کی جاری تحریک کو متاثر نہیں کریں گی۔لیہہ میں کور گروپ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیہہ ایپکس باڈی کے شریک چیئرمین شیرنگ دورجے نے کہا کہ سونم وانگچک صرف لداخ کے رہنما نہیں بلکہ ایک معروف ماحولیاتی کارکن اور قومی سطح کی شخصیت ہیں، اس لیے تعلیم سمیت دیگر قومی مسائل پر ان کی شرکت کو غلط انداز میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

دورجے نے کہا کہ کور گروپ کے اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ قومی مسائل پر اظہارِ خیال سے لداخ کی تحریک کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ سونم وانگچک لداخ کے مسائل کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وانگچک مسلسل لداخ کے مطالبات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتے رہے ہیں۔انہوں نے مرکز کے ساتھ گزشتہ پانچ برسوں سے جاری مذاکرات میں سست رفتاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاستی درجے اور آئین کے چھٹے شیڈول سمیت اہم مطالبات پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو لداخ کی تنظیمیں ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے بھی رابطہ قائم کرنے پر غور کریں گی۔کربلائی نے کہا کہ اگر کوئی پلیٹ فارم لداخ کے مسائل کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تو اس سے فائدہ ہی ہوگا، اور سونم وانگچک کی ایسی سرگرمیوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande