
جموں, 20 جون (ہ س)۔
جموں و کشمیر حکومت نے رہبرِ تعلیم اساتذہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقل تقرری سے قبل انجام دی گئی پانچ سالہ خدمات کو پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد کے لیے بدستور شمار کیا جائے گا۔
اسکول ایجوکیشن محکمہ کی جانب سے پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل جموں و کشمیر کو بھیجے گئے ایک باضابطہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کے 19 جون 2014 کے فیصلے اور بعد ازاں جاری سرکاری حکم نامہ نمبر 469-ای ڈی یو آف 2014 کے تحت رہبرِ تعلیم اساتذہ کی مستقل تقرری سے قبل کی پانچ سالہ مدت کو پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کے لیے تسلیم کیا گیا تھا، جو اب بھی برقرار ہے۔
محکمہ نے واضح کیا کہ اگرچہ مذکورہ حکم نامے کی بعض شقیں، جو سینیارٹی سے متعلق تھیں، بعد میں کالعدم قرار دی گئی تھیں، تاہم پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق دفعات بدستور نافذ العمل ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسی نوعیت کے تمام معاملات یکساں پالیسی کے تحت نمٹائے جائیں۔یہ معاملہ زونل ایجوکیشن آفس بانہال کی جانب سے اٹھائے گئے ایک سوال کے بعد سامنے آیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں اساتذہ میں اپنے مستقبل کے پنشن فوائد کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی تھی۔
جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچرز فورم کے چیف ترجمان مظفر احمد وانی نے حکومتی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فورم شروع سے ہی اس موقف پر قائم تھا کہ پنشن سے متعلق سرکاری فیصلہ پوری طرح نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کی غلط تشریح کے باعث اساتذہ برادری میں غیر ضروری بے چینی پیدا ہوئی۔حکومتی وضاحت کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ زیر التوا پنشن معاملات جلد نمٹائے جائیں گے اور ہزاروں رہبرِ تعلیم اساتذہ کو ریٹائرمنٹ فوائد کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر