راجوری کے منور توی علاقے میں انڈین روفڈ کچھوا برآمد
راجوری کے منور توی علاقے میں انڈین روفڈ کچھوا برآمد جموں، 20 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو اس وقت اہم کامیابی حاصل ہوئی جب ضلع راجوری کے منور توی علاقے میں پہلی مرتبہ انڈین روفڈ کچھوے کی موجودگی باضابطہ طور پر ریکارڈ
Turtle


راجوری کے منور توی علاقے میں انڈین روفڈ کچھوا برآمد

جموں، 20 جون (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو اس وقت اہم کامیابی حاصل ہوئی جب ضلع راجوری کے منور توی علاقے میں پہلی مرتبہ انڈین روفڈ کچھوے کی موجودگی باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے اس نایاب نسل کے مسکن کے دائرہ کار میں توسیع کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق مقامی باشندوں نے منور توی ندی کے علاقے میں کچھوے جیسی ایک نسل کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے وائلڈ لائف وارڈن راجوری-پونچھ ڈویژن ندیم اقبال اور رینج افسر افتخار ایچ خان کی قیادت میں ایک ٹیم نے مذکورہ کچھوے کو محفوظ تحویل میں لے کر اس کی دستاویزی تصدیق کی۔

حکام نے بتایا کہ انڈین روفڈ کچھوا درمیانے حجم کا میٹھے پانی میں رہنے والا کچھوا ہے، جو جیومیڈائی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور عموماً برصغیر کے شمالی و مشرقی علاقوں، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے دریائی نظاموں میں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجوری میں اس نسل کی موجودگی سائنسی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پیر پنجال خطے کی جانب اس کے قدرتی مسکن کے پھیلاؤ کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔رینج افسر افتخار ایچ خان کے مطابق پیر پنجال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس نسل کے مستند ریکارڈ نہ ہونے کے برابر تھے، اس لیے یہ دریافت حیاتیاتی تنوع کی دستاویز سازی میں ایک اہم اضافہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کچھوا اپنی ابھری ہوئی چھت نما خول اور زیتونی بھورے رنگ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اور عموماً آہستہ بہنے والے دریاؤں، ندی نالوں، تالابوں اور دلدلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔حکام کے مطابق اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے بعض حصوں میں آبی ماحولیاتی نظام پہلے کے اندازوں سے زیادہ صحت مند ہیں، جبکہ پیر پنجال کے وسیع خطے میں حیاتیاتی تنوع کے کئی پہلو ابھی تک دریافت ہونے باقی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande