پون راجے نمبالکر قتل کیس: سابق وزیر پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام نو ملزمین بری، اوم راجے نمبالکر کا ہائی کورٹ جانے کا اعلان
ممبئی ، 20 جون (ہ س)۔ ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے مہاراشٹر کے انتہائی مشہور اور طویل عرصے سے زیرِ سماعت پون راجے نمبالکر قتل کیس میں شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر سابق وزیر پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام نو ملزمین کو بری قرار دے دیا ہے۔ عدالت
پون راجے نمبالکر قتل کیس: سابق وزیر پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام نو ملزمین بری، اوم راجے نمبالکر کا ہائی کورٹ جانے کا اعلان


ممبئی ، 20 جون (ہ س)۔ ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے مہاراشٹر کے انتہائی مشہور اور طویل عرصے سے زیرِ سماعت پون راجے نمبالکر قتل کیس میں شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر سابق وزیر پدم سنگھ پاٹل سمیت تمام نو ملزمین کو بری قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد موجودہ دھاراشیو کے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے، تاہم فی الحال وہ عدالتی فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج ستیہ نارائن ناوندر نے ہفتہ کے روز پون راجے نمبالکر اور ان کے ڈرائیور صمد قاضی قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران مقدمے کے تمام نو ملزمین عدالت میں موجود تھے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے استغاثہ کے معافی یافتہ گواہ پارسمل جین کی گواہی پر سخت اعتراضات درج کیے۔ عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ جس شخص کے پاس ساڑھے چار کلو گرام سونا ہو اور متعدد دکانوں کا مالک ہو، اس کے بارے میں یہ بات قابلِ یقین نہیں لگتی کہ وہ صرف 50 ہزار روپے کے عوض معافی یافتہ گواہ بن جائے۔عدالت نے مزید کہا کہ پارسمل جین کی گواہی کئی اہم مقامات پر غیر مربوط اور غیر معتبر محسوس ہوتی ہے۔ جج نےتبصرہ کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ محض ایک کہانی بنا رہا ہو۔ عدالت نے یہ بھی ذکرکیا کہ معافی یافتہ گواہ کو کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور دورانِ تفتیش اس کی ادویات بھی بند کر دی گئی تھیں، جس سے اس کی گواہی کی ساکھ مزید متاثر ہوتی ہے۔ان تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے معافی یافتہ گواہ پارسمل جین سمیت مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم صادر کیا۔ ان میں اس وقت کے وزیر داخلہ اور سابق وزیر پدم سنگھ پاٹل بھی شامل ہیں، جن پر اس قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’یہ کَل یُگ ہے، میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس قتل کیس کی ابتدائی تحقیقات ممبئی پولیس نے کی تھیں، بعد ازاں یہ معاملہ سی آئی ڈی کے سپرد کیا گیا، لیکن انہیں محسوس ہوا کہ تحقیقات درست سمت میں نہیں بڑھ رہی ہیں۔ اوم راجے نمبالکر نے کہا کہ اسی وجہ سے وہ خود عدالتِ عالیہ سے رجوع ہوئے تھے، جس کے بعد کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق اب موجودہ فیصلے کے بعد وہ دوبارہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے اور اپنا مؤقف وہاں پیش کریں گے۔واضح رہے کہ موجودہ دھاراشیو کے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے والد پون راجے نمبالکر اور ان کے ڈرائیور سمد قاضی کو 3 جون 2006 کو نوی ممبئی کے کلمبولی علاقے کے قریب گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ معاملہ ریاست کے سب سے زیادہ زیرِ بحث سیاسی اور مجرمانہ مقدمات میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کیس میں اس وقت کے وزیر داخلہ ڈاکٹر پدم سنگھ پاٹل سمیت مجموعی طور پر نو افراد پر قتل کی سازش اور واردات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پدم سنگھ پاٹل کو سال 2009 میں گرفتار بھی کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت مل گئی تھی۔ مقدمے کے دیگر تمام ملزمان بھی ضمانت پر رہا تھے۔تقریباً دو دہائیوں پر محیط عدالتی کارروائی کے بعد خصوصی سی بی آئی عدالت نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تمام نو ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ تاہم مقتول پون راجے نمبالکر کے خاندان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھیں گے اور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande