صورتحال سنگین، بارش غائب؛ کسان شدید تشویش میں مبتلا
بیڑ، 20 جون (ہ س)، جون کا نصف مہینہ گزر جانے کے باوجود نیکنور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اب تک اطمینان بخش بارش نہ ہونے کے باعث حالات تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں۔ شدید گرمی اور خشک موسم نے کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہر سال اس وقت تک
صورتحال سنگین، بارش غائب؛ کسان شدید تشویش میں مبتلا


بیڑ، 20 جون (ہ س)، جون کا نصف مہینہ گزر جانے کے باوجود نیکنور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اب تک اطمینان بخش بارش نہ ہونے کے باعث حالات تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں۔ شدید گرمی اور خشک موسم نے کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہر سال اس وقت تک کھیتوں میں بوائی کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہتا تھا، لیکن اس سال کسان آسمان کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور بارش کے انتظار میں بے چین ہیں۔علاقے کے بیشتر کسانوں نے بارش کی امید پر کھاد اور بیج پہلے ہی خرید کر رکھ لیے ہیں۔ بعض مقامات پر خشک بوائی (دھول پیرنی) بھی کی جا چکی ہے، لیکن بارش مکمل طور پر غائب رہنے کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ زمین میں ڈالے گئے بیج ضائع ہو جائیں گے اور کسانوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ جن کسانوں کے پاس آبپاشی کے محدود وسائل موجود ہیں، وہ کسی نہ کسی طرح فصلوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کنوؤں اور بورویلوں میں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف زرعی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پینے کے پانی کا مسئلہ بھی سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ہونے والی ہلکی بارش پر بھروسہ کرتے ہوئے بعض افراد نے بوائی کر دی تھی، لیکن اس کے بعد بارش نہ ہونے کے باعث اب انہیں دوبارہ بوائی کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ اگر جلد مناسب بارش نہ ہوئی تو پہلے سے کی گئی بوائی ناکام ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے اضافی اخراجات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بارش نہ ہونے کے باعث نئے چارے کی افزائش بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مویشیوں کے لیے خوراک کا مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسانوں اور مویشی پالنے والوں دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ زراعت کے حکام نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد بازی میں بوائی نہ کریں۔ زرعی ماہرین کے مطابق جب تک کم از کم 75 سے 100 ملی میٹر تک اچھی بارش نہ ہو جائے اور زمین میں مطلوبہ نمی پیدا نہ ہو، اس وقت تک بیج نہ بوئے جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس احتیاط سے بیج ضائع ہونے سے بچ سکیں گے اور کسانوں کو غیر ضروری مالی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔علاقے کے کسان اب بارش کے منتظر ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں مان سون سرگرم ہوگا، تاکہ کھیتوں کی پیاسی زمین سیراب ہو سکے اور خریف سیزن کی زرعی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہو سکیں۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande