
حیدرآباد ، 20 جون (ہ س)۔ شہرکے ایک وکیل خواجہ معزالدین کے قتل کیس میں نامپلی پولیس نے محبوب عالم خان کی 2 دن کی پولیس تحویل کے لئے نامپلی میٹرو پولیٹن کریمنل کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔ مجسٹریٹ نے وکیل دفاع اورسرکاری وکیل کے درمیان بحث کے بعد پولیس تحویل کی درخواست پر فیصلہ کو 22 جون تک محفوظ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ محبوب عالم خان جنھیں پولیس نے ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس میں ملزم نمبر2 ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اُنھیں 23 جون کوگرفتارکرکے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا جس پراُنھوں نے حالیہ دنوں کریمنل کورٹ میں درخواست ضمانت داخل کی تھی۔ مجسٹریٹ نے درخواست ضمانت پرسماعت کو22 جون تک ملتوی کردیاتھا جس پر پولیس نے اپنا موقف اچانک تبدیل کرتے ہوئے انھیں2 دن کی پولیس تحویل میں لینے کی درخواست دائر کی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حالانکہ محبوب عالم خان جو 84 سال کے عمر رسیدہ ہیں اور کئی عوارض کا شکارہیں کواچانک پولیس تحویل میں لینے کے فیصلہ کے پس پردہ سیاسی محرکات کارفرما ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ یہ ظاہرکیا جاتا ہے کہ جیسے ہی محبوب عالم خاں نے درخواست ضمانت داخل کی، جس پرمقامی سیاسی قائدین نے سرگرم ہوکر پولیس پر اثرانداز ہونے لگے اور ضمانت پررکاوٹ پیدا کرنے کے لئے پولیس کواِن کی تحویل کے لئے مجبور کئے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گزشتہ ہفتہ نامپلی پولیس نے ایڈوکیٹ قتل کیس کے 3 ملزمین مجاہد عالم خان، کشن سنگھ اور ابھیجیت کو 2 دن کی پولیس تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی تھی اور اُس وقت ضعیف العمر محبوب عالم خان کی پولیس تحویل تحقیقاتی عہدیداروں کے لئے غیر اہم تھی لیکن انھیں پولیس تحویل میں لینے کے لئے پولیس مشنری پر سیاسی دباؤ پیدا کیا گیا ہے۔ درخواست ضمانت پر مزید سماعت اور پولیس تحویل کی درخواست پر فیصلہ 22 جون کو متوقع ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق