
ہاتھرس، 2 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع کے سعدآباد علاقے کے ایک نوجوان کی اگنیویر کے لیے منتخب ہونے کے ایک دن بعد ہی موت ہو گئی۔ سرمیں درد اور پریشانی ہونے پر سی ایچ سی آگرہ لے جانے کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
مونیا گاوں کے رہنے والے اوم ویر سنگھ ایک کسان ہیں۔ اہلیہ کے علاوہ یہ خاندان دو بیٹے اور تین بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ اس کا بڑا بیٹا 20 سالہ اوم ویر شروع سے ہی ایک ذہین طالب علم تھا۔ نوودیا ودیالیہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ امتحان کی تیاری کے لیے گھر پر ہی رہا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ راہل نے بچپن سے ہی ملک کی خدمت کا خواب دیکھا تھا۔ سوموار کو اگنیویر کے امیدوار کے طور پر ان کے انتخاب کی خبر ملتے ہی خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گاوں والوں، رشتہ داروں اور خیر خواہوں کا جوق در جوق گھر میں آمدشروع ہو گئی۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور جشن کا سلسلہ دیر رات تک جاری رہا۔ اہل خانہ کے مطابق راہل پیر کی رات تک پوری طرح صحت مند تھا۔ تاہم منگل کی صبح اسے اچانک سر میں شدید درد اور بے چینی محسوس ہوئی۔ اس کی حالت تیزی سے بگڑ گئی۔ گھبرا کر اہل خانہ نے اسے فوری طور پر سعد آباد کمیونٹی ہیلتھ سنٹر پہنچایا۔ ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی حالت نازک دیکھتے ہوئے اسے آگرہ ریفر کر دیا۔ اہل خانہ راہل کو آگرہ لے جارہے تھے لیکن راستے میں ہی اس کی موت ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ مونیا گاﺅں سمیت سعدآباد علاقہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
سعد آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر دانویر سنگھ نے بتایا کہ نوجوان کو جب اسپتال لایا گیا تو وہ بے ہوش تھا۔ ان کے علاج کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن جب ان کی حالت بہتر نہ ہو سکی تو انہیں آگرہ ریفر کر دیا گیا۔ آگرہ جاتے ہوئے نوجوان کی موت ہو گئی۔ کرائم انسپکٹر جے پی سنگھ نے بتایا کہ وہ نوجوان کی موت سے لاعلم ہیں اور نہ ہی انہیں ایسی کوئی اطلاع ملی ہے۔ اس دوران لواحقین نے متوفی کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی۔ نوجوان کی تدفین گاوں کے باہر ایک کھیت میں کی گئی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی