
حیدرآباد ، 2 جون (ہ س) ۔
شہرحیدرآباد کے بشمول ملک بھرکے ہوٹل مالکین ،ریسٹورانوں اور کیٹرنگ کاکاروبارکرنے والے تاجروں کومرکزکی جانب سے ایک بار پھرمہنگائی کا بڑاجھٹکا لگاہے۔ آئیل کمپنیوں نے یکم جون سے 19 کلو گرام والے کمرشیل ایل پی جی گیس سیلنڈروں کی قیمتوں میں مزید 42 روپئے کا اضافہ کردیا ہے ۔ اس حالیہ اضافے کے بعداب حیدرآباد میں ایک کمرشیل گیاس سیلنڈرکی قیمت 3294 روپئے کی بلند ترین ریکارڈ سطح پر پہونچ گئی ہے۔ جس نے شہرکے چھوٹے اوربڑے تاجروں کی کمر توڑکررکھ دی ہے۔ حیدرآباد میں کمرشیل سیلنڈرکی قیمت 3294 روپئے تک پہونچنے سے شہرکے ہوٹلوں، ٹفن سنٹرس اورفاسٹ فوڈ اوٹ لٹس کے مالکان شدید بحران کا شکار ہوگئے ہیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کمرشیل گیس کی قیمتوں میں اس قدربے تحاشہ اضافے سے ان کے روزمرہ اخراجات برقراررکھنا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ کمرشیل گیس سیلنڈرکی قیمتوں کا اگرجائزہ لیا جائے تواس سال کے آغاز سے اب تک ان میں حیرت انگیزاضافہ ہواہے۔ محض پانچ ماہ کے مختصرعرصے میں کمرشیل سیلنڈر کی قیمت تقریباً دگنی ہوچکی ہے ۔ اس سال جنوری میں جوسیلنڈر1,691.50 روپئے کا تھا وہ اب جون میں بڑھ کر 3,294 روپئے ہوچکا ہے ۔ فروری میں پہلی مرتبہ قیمتوں میں 49 روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ مارچ میں 115 روپئے بڑھائے گئے ۔ اپریل میں 993 روپئے کازبردست اضافہ کیا گیا اب یکم جون کو مزید 42 روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی ۔ جس کا براہ راست بوجھ عام عوام کی جیب پر پڑے گا ۔۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق