
پونے-ناسک شاہراہ پر راستہ روکو تحریک میں ہزاروں کسان شریکپونے/ممبئی، 2 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر میں پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کو مناسب قیمت دلانے کے مطالبے پر مہاوکاس اگھاڑی کی جانب سے پیر کو پونے ضلع کے امبیگاؤں تعلقہ میں پونے-ناسک قومی شاہراہ پر ایک بڑے احتجاجی راستہ روکو آندولن کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاج میں ہزاروں کسانوں نے شرکت کی اور پیاز کی گرتی ہوئی قیمتوں کے خلاف شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں نے خون پسینہ ایک کر کے پیاز کی فصل تیار کی، لیکن آج انہیں اپنی پیداوار انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر پیاز کو دو روپے فی کلو کی قیمت بھی نہیں مل رہی، جس کے باعث پیاز پیدا کرنے والے کسان تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سپکال نے کہا کہ پیاز کے لیے 3 ہزار روپے فی کوئنٹل امدادی قیمت مقرر کی جائے اور کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس احتجاج میں پیاز کو 3 ہزار روپے فی کوئنٹل امدادی قیمت دینے، کم نرخ پر فروخت کی گئی پیاز پر مالی امداد فراہم کرنے، نیفیڈ کے ذریعے کسانوں کی تمام پیاز خریدنے اور کسانوں کو فوری راحت دینے جیسے مطالبات پیش کیے گئے۔ پولیس کی جانب سے گرفتاریاں شروع کیے جانے کے باوجود بڑی تعداد میں کسان سڑکوں پر ڈٹے رہے۔ احتجاج میں کانگریس ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، رکن اسمبلی روہت پوار، رکن پارلیمنٹ نلیش لنکے، رکن اسمبلی باپوساہب پٹھارے، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن اسمبلی باباجی کالے، سابق رکن اسمبلی اشوک پوار، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے ضلع صدر دیودت نکم سمیت مہاوکاس اگھاڑی کے مختلف جماعتی عہدیداران، کارکنان اور بڑی تعداد میں کسان موجود تھے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ اور فصلوں کو مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث ریاست کا کسان شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ خاص طور پر پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے کیونکہ بازار میں قیمتیں اتنی گر گئی ہیں کہ پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے پیاز کی سرکاری خریداری کا اعلان کیا ہے، لیکن زمینی سطح پر خریداری کا عمل اب تک شروع نہیں کیا گیا۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ پیاز کی خریداری زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹیوں کے ذریعے کی جائے اور اس پورے عمل میں تاجروں کے بجائے کسانوں کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔
سپکال نے مزید کہا کہ کسان بحران کا شکار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے انہیں مطلوبہ مدد فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث دیہی علاقوں میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس پارٹی اور پوری مہاوکاس اگھاڑی مضبوطی کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور جب تک پیاز پیدا کرنے والے کسانوں کو مناسب امدادی قیمت اور راحت نہیں ملتی، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے