ممتابنرجی کا الزام، دہلی سے ہورہی ہے ترنمول کانگریس کو توڑنے کی کوشش
کولکاتا، 02 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد تشدد کے الزامات کو لے کر منگل کو دھرمتلہ میں وائی چینل پر ایک احتجاجی پروگرام کا انعقاد کیا۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر احتجاجی پلیٹ فارم سے اپوزیشن کی آواز کو دبا
ممتا


کولکاتا، 02 جون (ہ س)۔ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد تشدد کے الزامات کو لے کر منگل کو دھرمتلہ میں وائی چینل پر ایک احتجاجی پروگرام کا انعقاد کیا۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر احتجاجی پلیٹ فارم سے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا الزام لگایا۔ اس دوران ترنمول کارکنان اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور ”جئے بنگلہ“ کے نعرے لگائے گئے۔ اس دوران ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے کہنے پر ٹی ایم سی کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپنے خطاب میں ممتا نے الزام لگایا کہ انتخابات کے بعد سے انہیں روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہیں تو وہ بی جے پی کوباہر نکال کردم لیں گی۔ سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ترنمول ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پولیس نے منگل کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک وائی چینل پر دھرنے کی اجازت دی تھی۔ ترنمول لیڈر اور کارکنان صبح سویرے ہی وہاں پہنچنا شروع ہو گئے۔ پنڈال کے اردگرد سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے تھے، پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد خاص طور پر خواتین کو تعینات کیا گیا تھا۔

پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے ممتا بنرجی کو گھیرے میںلے لیاتھا۔ اپنے خطاب کے دوران بار بار نعرے بازی کی وجہ سے انہیں کئی بار رکنا پڑا۔ بعد میں، انہوں نے اعلان کیا کہ ترنمول کے دیگر رہنما بھی باری باری اجتماع سے خطاب کریں گے۔

اس سے پہلے ترنمول کانگریس نے رانی راسمونی ایونیو پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہاں اجازت نہ ملنے سے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ پیر کو، پولیس نے تجویز پیش کی کہ وائی چینل پر تقریب کے انعقاد کے لیے ایک علیحدہ درخواست جمع کرائی جائے، اس اقدام پر ترنمول رہنماوں نے اعتراض کیا۔

ترنمول ایم ایل اے کنال گھوش نے سوال کیا کہ پہلے اعلان کردہ پروگرام کے لیے دوبارہ درخواست کی ضرورت کیوں پڑی۔ ایم پی کلیان بنرجی نے الزام لگایا کہ دیر رات کی ای میل جس میں تازہ اجازت کی درخواست کی گئی تھی، اپوزیشن کی آوازوں کو دبانے کی کوشش تھی۔

منگل کو احتجاجی مقام پر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔ شوبھندیب چٹوپادھیائے، نینا بندیوپادھیائے، چندریما بھٹاچاریہ، فرہاد حکیم اور اشوک دیو سمیت کئی لیڈروں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد بھی وائی چینل پر جمع تھی۔

ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ریاست میں نئی حکومت سیاسی انتقام سے کام لے رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے تقریبات کی اجازت دینے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ تاہم، سیاسی مبصرین بتاتے ہیں کہ ماضی میں، ترنمول کانگریس کے دور میں، یہاں تک کہ بی جے پی کو بھی کئی واقعات کے لیے پولیس کی اجازت اور عدالت کی منظوری پر انحصار کرنا پڑا۔

اس دوران، ترنمول کے اندر جاری عدم اطمینان اور دھڑے بندی کے درمیان اس احتجاج کو سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کے روز، 80 میں سے تقریباً 60 ایم ایل ایز کالی گھاٹ میں پارٹی میٹنگ سے غیر حاضر رہے، جس سے تنظیم کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملی۔ دستخط کی جعلسازی کے تنازع نے بھی پارٹی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

احتجاج سے پہلے ترنمول کے ایم ایل اے کنال گھوش اور مدن مترا نے منگل کی صبح ممتا بنرجی کی کالی گھاٹ رہائش گاہ پر میٹنگ کی۔ راجیہ سبھا ایم پی ڈولا سین بھی موجود تھیں۔ اس وقت منعقد ہونے والے اس احتجاج کو ترنمول کے لیے تنظیمی اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande