ایم پی حکومت 48.32 لاکھ لوگوں کو مفت اراضی رجسٹریشن فراہم کرے گی، ترقیاتی کاموں کے لیے 21,485 کروڑ روپے منظور
ایم پی حکومت 48.32 لاکھ لوگوں کو مفت اراضی رجسٹریشن فراہم کرے گی، ترقیاتی کاموں کے لیے 21,485 کروڑ روپے منظور ۔ کابینہ نے پہلی سے 8ویں جماعت تک کے طلبا کو سلی سلائی یونیفارم دینے کی تجویز کو منظوری دی بھوپال 2 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ موہن یادو کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی۔


کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ موہن یادو


کابینہ کی میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے وزیر کاشیپ


ایم پی حکومت 48.32 لاکھ لوگوں کو مفت اراضی رجسٹریشن فراہم کرے گی، ترقیاتی کاموں کے لیے 21,485 کروڑ روپے منظور

۔ کابینہ نے پہلی سے 8ویں جماعت تک کے طلبا کو سلی سلائی یونیفارم دینے کی تجویز کو منظوری دی

بھوپال 2 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کے روز منترالیہ میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں ریاست کی ہمہ جہت ترقی، عوامی فلاح وبہبود اور صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے 21 ہزار 485 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ نے ’سوامتو اسکیم‘ کے تحت ریاست کے 48.32 لاکھ خاندانوں کو ان کی آبادی والی زمین کی مفت رجسٹری اور سرکاری اسکولوں کے طلبا کو تیار سلی سلائی یونیفارم دینے کی تجویز کو منظوری دی۔

ایم ایس ایم ای وزیر چیتنیہ کاشیپ نے میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے عام عوام کو بڑی راحت دیتے ہوئے ’سوامتو ادھیکار ابھلیکھ نشپادن ایوم پنجین یوجنا-2026‘ کے تحت اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کو پوری طرح معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا پورا 3800 کروڑ روپے کا مالی بوجھ ریاستی حکومت خود اٹھائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے 8 ویں جماعت تک کے طلبا کو تعلیمی سیشن 27-2026 سے ٹینڈر کے عمل کے ذریعے سلی سلائی یونیفارم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹینڈر کے عمل کے لیے مدھیہ پردیش ٹیکسٹ بک کارپوریشن کو مجاز کیا گیا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں کو تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے 2 جوڑی یونیفارم فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ اس سے مقررہ وقت میں طلبا کو معیاری یونیفارم کی فراہمی یقینی ہو سکے گی۔

وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ نے ’سوامتو ادھیکار ابھلیکھ نشپادن ایوم پنجین یوجنا-2026‘ کو منظوری دی ہے۔ کابینہ کی جانب سے فیصلہ لیا گیا ہے کہ ریاست میں سوامتو اسکیم میں جن پلاٹ ہولڈرز کے حقوق کے دستاویزات تیار کئے گئے ہیں، انہیں آسانی سے قرض فراہم کرنے کے لیے ان تیار شدہ دستاویزات کا رجسٹریشن کرایا جائے۔ اس کے لیے ’ڈیڈ آف کنوینس‘ کا نفاذ اور رجسٹریشن کیا جائے گا تاکہ شہری ضرورت کے مطابق مکان کی تعمیر، کاروبار اور زرعی سرگرمیوں وغیرہ کے لیے قرض حاصل کر کے اپنی روزی روٹی اور معاشی حالت کو مضبوط کر سکیں۔

اس اسکیم کے نفاذ کے لیے خصوصی مہم کے تحت کارروائی مکمل کی جائے گی۔ اب تک کل 68.11 لاکھ حقوق کی دستاویزات تیار کی جا چکی ہیں۔ اس میں 48.32 لاکھ نجی جائیدادیں شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے رجسٹریشن کے لیے شہریوں سے کوئی اسٹامپ ڈیوٹی یا رجسٹریشن فیس نہیں لی جائے گی، کل اخراجات کی رقم 3800 کروڑ روپے ریاستی حکومت کی طرف سے برداشت کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش پہلی ریاست ہوگی جہاں دیہی علاقوں کی آبادی کے شہریوں کے پلاٹ سے متعلق حقوق محفوظ کر کے ان کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ سوامتو اسکیم میں مدھیہ پردیش کے دیہی علاقوں کی آبادی میں رہنے والے شہریوں کو ان کا قانونی حق فراہم کرنے کے لیے حقوق کی دستاویزات کی تیاری ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہے۔

اسکیم کے موثر نفاذ کے لیے تفصیلی رہنما خطوط جاری کرنے، طریقہ کار طے کرنے اور وقت وقت پر جائزہ لینے کے لیے کمشنر لینڈ ریسورس مینجمنٹ کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی میں انسپکٹر جنرل رجسٹریشن اینڈ سپرنٹنڈنٹ آف اسٹامپس، کمشنر ٹریژری اینڈ اکاؤنٹس، کمشنر/ ڈائریکٹر پنچایت اور دیہی ترقیاتی محکمہ اور منیجنگ ڈائریکٹر ایم پی ایس ای ڈی سی ممبر ہوں گے اور ضرورت کے مطابق ماہرین کو بھی شامل کیا جا سکے گا۔

اسکیم کی تشہیر، چھپائی کے اخراجات اور عوامی بیداری کی سرگرمیاں چلانے کے لیے ریاستی سطح پر 10 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اسکیم کا تفصیلی سرکلر اور وقت وقت پر ضرورت کے مطابق وضاحتیں وغیرہ جاری کرنے کے لیے محکمہ ریونیو کو مجاز کیا گیا ہے۔

وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ نے ریاست کے صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے تحت تقریباً 17 ہزار 59 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ کابینہ نے میڈیکل کالج سے منسلک اسپتال اسکیم کو 1 اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک مسلسل چلانے کے لیے 14,363.95 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ اسکیم کے تحت ریاست کے عام لوگوں کو مفت معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور ریاست میں علاج کے لیے انسانی وسائل (میڈیکل اسٹاف) تیار کرنے کے لیے 12 ضلع ہیڈکوارٹرز پر میڈیکل کالجوں اور منسلک اسپتالوں کا آپریشن ریاستی حکومت کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ نے زیر تعمیر ڈسٹرکٹ کورٹ بلڈنگ، پیپلیاہانا، اندور کے ترمیمی تعمیراتی کام کی لاگت کی رقم 411 کروڑ 1 لاکھ روپے میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 626 کروڑ 61 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی ہے۔

کابینہ نے ’’مدھیہ پردیش پنچایت راج ایوم گرام سوراج ادھینیم 1993 (ترمیم) آرڈیننس، 2026‘‘ کے ڈرافٹ کو منظوری دی ہے۔ منظوری کے مطابق گورنر کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 213 کے شق (1) کے تحت آرڈیننس نافذ کیا جائے گا۔

کابینہ نے ریاستی حکومت کی جانب سے انوپم کھیر کی ڈائریکٹ کردہ ہندی فیچر فلم ’’تنوی دی گریٹ‘‘ اور آشیش مل کی ڈائریکٹ کردہ ہندی فیچر فلم ’’شتاک: سنگھ کے 100 ورش‘‘ کی مدھیہ پردیش میں نمائش پر ایس جی ایس ٹی سے چھوٹ دینے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ فیصلے کے مطابق دونوں فلموں کو مدھیہ پردیش گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ، 2017 کے تحت اسٹیٹ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (ایس جی ایس ٹی) کے مساوی رقم کی واپسی کرتے ہوئے فلم بینوں کو مذکورہ رقم کی چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔ اس کے لیے محکمہ کے 24 جولائی 2025 اور 3 مارچ 2026 کو جاری کردہ احکامات کی توثیق کی گئی ہے۔

کابینہ نے برگی ڈیم، جبل پور میں 30 اپریل 2026 کو کروز حادثے کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان کی عدالتی جانچ کے لیے ہائی کورٹ جبل پور کے ریٹائرڈ جج جسٹس جناب سنجے دویویدی کی صدارت میں یک رکنی جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دینے کے سلسلے میں 10 مئی 2026 کو جاری کردہ حکم کی توثیق کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande