

بھوپال، 2 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر ثقافت و سیاحت دھرمیندر بھاو سنگھ لودھی نے پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال کے بعد ان کے عیدگاہ کالونی واقع گھر پہنچ کر ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور گہری تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انھوں نے ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ ڈاکٹر راحت بدر اور بیٹے طیب بدر سے ہمدردانہ گفتگو کی۔ بات چیت کے دوران وزیر موصوف نے بشیر بدر صاحب کی متعدد مشہور غزلوں اور اشعار کا ذکر کرتے ہوئے انہیں سنایا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بدر صاحب کا کلام صرف ادب نہیں بلکہ انسانی جذبات، محبت، ہمدردی اور حساسیت کی ایسی وراثت ہے جس نے نسلوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ برسوں سے بشیر بدر صاحب کی شاعری پڑھتے رہے ہیں اور متعدد مواقع پر ان کے اشعار کو نقل کرتے رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ بشیر بدر صاحب کی شاعری میں انسانی رشتوں کی گرماہٹ، سماجی مسائل، زندگی کا فلسفہ اور انسانی درد کی گہری عکاسی ملتی ہے۔ ان کا کلام عام آدمی کے دل سے براہ راست مکالمہ کرتا ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ انہوں نے اردو شاعری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور ان کی تخلیقات زبان اور سرحدوں سے ماورا ہو کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتی رہیں گی۔
اس موقع پر وزیر ثقافت نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش ڈاکٹر موہن یادو سے مشاورت کر کے حکومت کی جانب سے پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر کے نام پر ایک ادبی اعزاز قائم کریں گے، تاکہ آنے والی نسلیں ان کی ادبی وراثت سے مستقل طور پر متاثر ہوتی رہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن