کرناٹک میں سنتوں اور مذہبی تنظیموں نے ضمیر احمد خان کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کیا
نگران وزیر اعلیٰ سدھارامیا کو میمورنڈم سونپا گیا بنگلورو، 2 جون (ہ س)۔ کرناٹک میں مختلف مٹھوں، مذہبی اداروں اور سنتوں کے نمائندوں نے قائم مقام وزیر اعلیٰ سدھارامیا سے ملاقات کی اور سابق وزیر بی زیڈ۔ ضمیر احمد خان کو ریاست کا نائب وزیر اعلیٰ بنانے
سنت


نگران وزیر اعلیٰ سدھارامیا کو میمورنڈم سونپا گیا

بنگلورو، 2 جون (ہ س)۔ کرناٹک میں مختلف مٹھوں، مذہبی اداروں اور سنتوں کے نمائندوں نے قائم مقام وزیر اعلیٰ سدھارامیا سے ملاقات کی اور سابق وزیر بی زیڈ۔ ضمیر احمد خان کو ریاست کا نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔

منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر میٹنگ کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے ضمیر احمد خان نے کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں سے سنتوں، مذہبی اداروں کے سربراہان اور دیگر مذہبی اداروں نے نگراں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور ان کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر ذاتی طور پر موجود تھے اور مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے ان پر کئے گئے اعتماد کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ضمیر احمدنے ان تمام سنتوں، مذہبی رہنماوں اور اداروں کے سربراہان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی حمایت اور خیر سگالی کا اظہار کیا۔

سابق وزیر نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے انہیں جو محبت، حمایت اور اعتماد مل رہاہے وہ تحریک کا باعث ہے۔ انہوں نے تمام سنت اور مذہبی رہنماو¿ں کے آشیرواد اور تعاون کے لیے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

ضمیر احمد خان نے کہا کہ عوام اور سماج کے مختلف طبقات کا اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور وہ عوامی خدمت اور ریاست کی ترقی کے لیے لگن سے کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ریاست میں قیادت اور اہم عہدوں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے رہنما کی کھلے عام حمایت کو سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔

تاہم نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ چنانچہ سنت اور مذہبی اداروں کا یہ اقدام سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس مطالبے پر اب سب کی نظریں پارٹی قیادت اور حکومت کے موقف پرٹکی ہوئی ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande