
بنگلورو، 2 جون (ہ س)۔ کرناٹک کی سیاست میں ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے۔ ریاست کے نامزد وزیر اعلیٰ ڈی کے۔ شیوکمار، بدھ (3 جون) کو بنگلورو کے لوک بھون میں عہدے اور رازداری کا حلف لیں گے۔ گورنر تھاور چند گہلوت شام 4بج کر05 منٹ پر حلف دلائیں گے۔ اس انتہائی متوقع تقریب کے لیے دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں اور سیکیورٹی کے انتظامات کو غیر معمولی سطح تک مضبوط کر دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت اور انتظامیہ نے شاندار تقریب کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے ہیں۔ حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ وزراء کونسل کے کچھ ارکان بھی عہدے اور رازداری کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک کابینہ کی حتمی تشکیل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
اس تقریب میں کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی شرکت متوقع ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سمیت کئی سینئر نیشنل پارٹی لیڈروں کی اس تقریب میں شرکت متوقع ہے۔ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور انڈیا اتحاد کے کئی سرکردہ لیڈروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت پہلے ہی وی آئی پی مہمانوں کو دعوت نامے تقسیم کر چکی ہے۔ تقریب میں 800 کے قریب معزز مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے، جبکہ 2200 سے زائد انٹری پاسز جاری کیے گئے ہیں۔ تقریب میں عوامی نمائندوں، صنعتوں کے نمائندوں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی بھی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
حلف برداری کی تقریب میں کانگریس کے ہزاروں کارکنان اور حامیوں کی شرکت متوقع ہے۔ لوک بھون اور آس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے بھیڑ کو منظم کرنے، ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس دستے تعینات کیے ہیں۔ حساس علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور سیکیورٹی ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تقریب کے دوران متوقع ٹریفک جام کے پیش نظر انتظامیہ نے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ شہر کے وسطی حصے میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے ودھان سودھا، وکاس سودھا، اور ایم ایس بلڈنگ میں کام کرنے والے اہلکاروں اور ملازمین کے لیے دوپہر کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی