
جموں, 02 جون (ہ س)۔ جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف حالیہ انہدامی کارروائی سیاسی تقسیم کا شکار ہو گئی ہے ۔بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے مبینہ قابضین کو بے دخل کرنے کا بیان دے کر قبائلی طبقے میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔حکومت نے اس کاروائی سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر جاوید رانا نے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے ۔وہیں پیر کو جموں کے باندی رگورہ علاقے میں احتجاجی مارچ کے دوران صورتحال کشیدہ ہو گئی، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق احتجاجی مارچ مبینہ طور پر ان قبائلی خاندانوں کی حمایت میں نکالا گیا تھا جو گزشتہ دنوں محکمہ جنگلات کی انسدادِ تجاوزات مہم سے متاثر ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مارچ کے لیے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض افراد نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار زخمی ہو گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں سماجی کارکن طالب حسین بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 26 مئی کو رائکہ باندی جنگلاتی علاقے میں محکمہ جنگلات اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران 30 سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا تھا اور تقریباً 60 کنال جنگلاتی اراضی واگزار کرائی گئی تھی۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ مظاہرین کو بارہا احتجاج نہ کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم بعض افراد نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کیں اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ادھر مقامی قبائلی باشندوں نے احتجاجی مارچ سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان اس احتجاج کا حصہ نہیں تھے اور وہ متعلقہ محکموں کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔باغِ باہو پولیس اسٹیشن میں اس واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر