جموں میں کسان لیچی کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ڈائریکٹر
جموں میں کسان لیچی کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جموں، 02 جون (ہ س)۔ جموں خطے میں کسان ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن (ایچ ڈی پی) پروگرام کے تحت لیچی کی کاشت کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں، جس سے انہیں بہتر پیداوار اور زیادہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے
جموں میں کسان لیچی کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ڈائریکٹر


جموں میں کسان لیچی کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ڈائریکٹر

جموں، 02 جون (ہ س)۔ جموں خطے میں کسان ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن (ایچ ڈی پی) پروگرام کے تحت لیچی کی کاشت کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں، جس سے انہیں بہتر پیداوار اور زیادہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ محکمہ باغبانی کے مطابق ایک کنال زمین سے سالانہ 24 ہزار سے 30 ہزار روپے تک آمدنی ممکن ہے۔محکمہ باغبانی جموں کے ڈائریکٹر گل سید نے بتایا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے آئندہ چند برسوں میں روایتی لیچی باغات کے 3200 سے زائد کنال رقبے کو ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لیچی نہ صرف ایک منافع بخش پھل ہے بلکہ غذائیت سے بھی بھرپور ہے۔ جموں شہر کے مضافاتی علاقوں میں متعدد کسان بڑے پیمانے پر لیچی کی کاشت کر رہے ہیں اور محکمہ انہیں مارکیٹنگ سمیت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔گل سید کے مطابق ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اختیار کرنے والے کسانوں کو مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت 50 فیصد تک سبسڈی دی جا رہی ہے، جس کے باعث مزید کسان لیچی کے باغات قائم کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مناسب آبپاشی اور وافر پانی والے علاقوں میں لیچی کی کاشت بہترین نتائج دیتی ہے۔ مرہ اور آر ایس پورہ جیسے علاقوں میں لیچی کے باغات کے رقبے میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر باغبانی نے بتایا کہ لیچی وٹامن سی، پوٹاشیم، قدرتی شکر اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس صحت کے لیے بھی مفید ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ باغبانی کسانوں کو معیاری پودے، تکنیکی رہنمائی، مائیکرو آبپاشی نظام اور جدید باغبانی طریقوں کی تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیداوار اور منافع حاصل کر سکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande