
نئی دہلی، 2 جون (ہ س)۔ نیپال کی حکمراں راشٹریہ سواتنتر پارٹی (آر ایس پی) کے صدر روی لامیچھانے نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں نے نیپال-بھارت تعلقات، جمہوری اقدار اور باہمی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی۔
بی جے پی صدرنتن نوین کی دعوت پر پانچ روزہ دورے پر پیر کو ہندوستان پہنچنے والے لامیچھانے کا منگل کی صبح بی جے پی ہیڈکوارٹر میں شاندار استقبال کیا گیا۔ بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں نے روایتی جھانکیوں، ہاروں اور ڈھول تاشوں سے ان کا استقبال کیا۔ ہیڈکوارٹر پہنچنے پر ان کا استقبال کرنے والوں میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور ہیڈ کوارٹر انچارج ارون سنگھ، بی جے پی کے خارجہ امور کے سربراہ وجے چوتھائی والے اور کئی دیگر لیڈران شامل تھے۔
بی جے پی صدر نوین نے آر ایس پی صدر لامیچھانے کا پھولوں کے گلدستے سے استقبال کیا اور انہیں یادگاری تحفہ پیش کیا۔ لامیچھانے نے بی جے پی صدر کو نیپال کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے پشوپتی ناتھ مندر سے لایا گیا خصوصی تلک اور رودرکش اور تلسی کے مالا پیش کیا ۔ اس کے علاوہ لامیچھانے نے نتن نوین کو چاندی سے بنے پشوپتی ناتھ مندر کی ایک پرکشش نقل بھی پیش کی۔ یہ تحفہ نیپال کے مذہبی عقیدے، ثقافتی شناخت اور ہندوستان اور نیپال کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس موقع پر بی جے پی لیڈر نے انہیں پارٹی ہیڈکوارٹر کے ڈھانچے اور تنظیمی انتظامات سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پارٹی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بی جے پی کے مطابق، اس دورے کا بنیادی مقصد بی جے پی اور آر ایس پی کے درمیان مکالمہ قائم کرنا اور تنظیمی کام کاج اور عوام پر مبنی سیاسی رسائی کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنا ہے۔
بی جے پی کے مطابق
'بی جے پی کو جانیں ' پہل کے ذریعے، غیر ملکی سیاسی جماعتوں اور سفارت کاروں کو بی جے پی کی تاریخ، نظریے، تنظیمی ڈھانچے اور کام کاج سے متعارف کرایا جاتا ہے۔
آر ایس پی رہنماوں کے مطابق، تحائف کے ذریعے نیپال اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ ثقافتی اور روحانی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔
پانچ رکنی نیپالی وفد میں آر ایس پی صدر لامیچھانے، ان کی اہلیہ نکیتا پوڈیل، آر ایس پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری وپن کمار آچاریہ، دیپک بوہورا، اور پردیپ اچاریہ شامل ہیں۔ اپنے دورے کے دوران، لامیچھانے ہندوستان میں مقیم نیپالی کمیونٹی کے ارکان سے بھی بات چیت کریں گے اور اتر پردیش میں ایودھیا جائیں گے، جہاں وہ رام للا کے درشن اور پوجا سمیت مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے کئی پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ نیپال کے سیاسی منظر نامے میں آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر لامیچھانے کے اس دورے کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے، جب دونوں ممالک سفارتی اور سیاسی تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی