
نئی دہلی، 2 جون (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان گھریلو شیئر بازار کو عالمی محاذ پر جھٹکا لگا ہے۔ ہندوستانی شیئر مارکیٹ اب عالمی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر آ گیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ ایڈوائزری اور سیبی کے رجسٹرڈ انویسٹمنٹ پلیٹ فارم یونیویسٹ کے مطابق، ہندوستانی حصص بازار 2 جون تک عالمی ایکویٹی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر آ گئی ہے۔ اس کی چپ بنانے والی بڑی کمپنیاں ہیں، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بدولت مسلسل ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ جنوبی کوریائی کمپنیوں کی مارکیٹ کیپ 86 فیصد بڑھ کر 5 ٹریلین ڈالر (تقریباً 475 لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کا مارکیٹ کیپ اب گھٹ کر 4.8 ٹریلین ڈالر (تقریباً 456 لاکھ کروڑ روپے) پر آ گیا ہے۔
یونیویسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق،مسلسل خراب کارکردگی کی وجہ سے نفٹی اور سینسیکس میں اس سال اب تک 11-13 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے بحالی کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ، خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر95 ڈالر فی بیرل کے قریبپہنچنا، صرف مئی میں 55,963 کروڑ روپے کی ایف آئی آئی کی فروخت اور معمول سے کم مانسون کی پیش گوئیاں ہیں۔
ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کی درجہ بندی میں یہ گراوٹ اس لے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ 2024 میں ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر پہنچ گئی تھی۔ تب سے، عالمی معاشی چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے اس کی کل مارکیٹ کیپ اور اس کی متعلقہ درجہ بندی دونوں کو کمزور کر دیا ہے۔گھریلو شیئر بازار میں گراوٹ کی بنیادی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ سے فنڈز کا مسلسل انخلا ہے۔ ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے کی کمزوری نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر میں سرمایہ کار اے آئی انفراسٹرکچر سے منسلک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں ایسی کمپنیوں کی موجودگی نسبتاً کم ہے۔
مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جہاں جنوبی کوریا اور تائیوان نے اسٹاک مارکیٹ کی قدر کے معاملے میں ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، وہیں ہندوستان حقیقی اقتصادی حجم کے لحاظ سے بہت بڑا اور مضبوط ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تخمینے کے مطابق، ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)4.15 ٹریلین ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی جی ڈی پی 1.93 ٹریلین ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر برقرار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد