اے ایم یو میں فیکلٹی آف آرٹس کی جانب سے پروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں تقریب منعقد، نئے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان کا خیرمقدم
علی گڑھ, 02 جون (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے تحت مختلف شعبوں کے صدور اور ڈائریکٹرز کی جانب سے سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں الوداعی و تہنیتی تقریب منعقد کی گئی ، ساتھ ہی نئے ڈین پروفیسر محمد رضوان خ
الوداعی تقریب


علی گڑھ, 02 جون (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے تحت مختلف شعبوں کے صدور اور ڈائریکٹرز کی جانب سے سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ٹی این ستھیسن کے اعزاز میں الوداعی و تہنیتی تقریب منعقد کی گئی ، ساتھ ہی نئے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔

حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ لسانیات کے صدر پروفیسر محمد جہانگیر وارثی نے بطور استاد ،محقق و منتظم پروفیسر ستھیسن کی نمایاں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پروفیسر ستھیسن کو ایسا دانشور قرار دیا جن قیادت نے فیکلٹی آف آرٹس کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پروفیسر وارثی نے پروفیسر محمد رضوان خان کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے بطور استاد، محقق، مترجم اور علمی منتظم ان کی خدمات کا ذکر کیا اور ان کی وقیع علمی تصنیفات اور یونیورسٹی میں مختلف قائدانہ ذمہ داریوں کو سراہا۔

اس موقع پر متعدد شعبوں کے صدور اور سینئر اساتذہ بشمول ڈاکٹر عبد الہادی، پروفیسر معراج احمد، پروفیسر فیضان بیگ، پروفیسر محمد قمرالہدیٰ فریدی، پروفیسر زبیر شاداب، پروفیسر اے نجُم، ڈاکٹر عامر ریاض، پروفیسر محمد عثمان غنی اور پروفیسر شاہینہ ترنم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے پروفیسر ستھیسن کی علمی کامیابیوں، انتظامی بصیرت، انکساری اور ادارہ جاتی ترقی کے تئیں ان کی وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے پروفیسر محمد رضوان خان کی قیادت اور فیکلٹی کو مزید مستحکم کرنے کے ان کے وژن پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

پروفیسر آزرمی دخت صفوی کا پیغام ڈاکٹر محمد احتشام الدین نے پڑھ کر سنایا، جس میں پروفیسر ستھیسن کی شفقت، غیر جانبداری اور علمی امتیاز کو اجاگر کیا گیا۔ پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی، پروفیسر محمد علی جوہر، پروفیسر محمد سمیع اختر اور ڈاکٹر ارشد اقبال نے بھی یونیورسٹی کے لیے ان کی خدمات پر اپنے تاثرات پیش کیے۔

اپنے الوداعی خطاب میں پروفیسر ستھیسن نے اے ایم یو سے تقریباً 38 سالہ وابستگی کے دوران ملنے والی محبت اور تعاون پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ علی گڑھ ان کا پہلا گھر بن چکا ہے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محمد رضوان خان نے پروفیسر ستھیسن کو غیر معمولی علمی مقام کا حامل دانشور قرار دیا اور تمام شعبوں پر زور دیا کہ وہ فیکلٹی آف آرٹس کے علمی وقار کو مزید بلند کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ اس موقع پر پروفیسر ستھیسن کو یادگاری نشان پیش کیا گیا، جبکہ پروفیسر محمد رضوان خان کو مختلف شعبوں کے صدور نے تہنیت پیش کی۔ شعبہ سنسکرت کی چیئرپرسن پروفیسر ساریکا وارشنے نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande