
مدرسے میں کمسن طالبہ سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں مولانا گرفتار، پاکسو قانون کے تحت مقدمہ درج
شولاپو، ممبئی ، 2 جون (ہ س)۔ مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والی ایک کمسن طالبہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کے الزام میں شولاپور ایم آئی ڈی سی پولیس نے ایک مولانا کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں تشویش اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مولانا محمد عمر رضوی کے خلاف ایک کمسن لڑکی کے ساتھ نامناسب برتاؤ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملزم کا تعلق اتر پردیش سے بتایا جاتا ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے شولاپو میں مقیم ہے۔ الزام ہے کہ اتوار کی شام متاثرہ لڑکی جب دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسے پہنچی تو ملزم نے اس کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے نازیبا انداز میں اسے چھوا۔
واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی نے اپنے اہل خانہ کو پوری تفصیل سے آگاہ کیا، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کی بنیاد پر شولاپور ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ملزم کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول اوفینسیس ( پاکسو) ایکٹ مقدمہ درج کیا گیا۔ ساتھ ہی اس کے خلاف کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے دو دن کی پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے