لاپتہ میگھا کی لاش برآمد، کارروائی کے مطالبہ کو لیکر دیر رات تک ہنگامہ
کشن گنج، 2 جون (ہ س)۔ صدر تھانہ علاقہ کے مجھیا واقع ندی کنارے پیر کی رات کو 13سالہ طالبات کی مشتبہ حالت میں لاش ملنے سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ متوفی کی شناخت ڈومریا بھٹہ کے رہنے والے منوج ساہ کی بیٹی میگھا کماری کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ تین دن
لاپتہ میگھا کی لاش برآمد، کارروائی کے مطالبہ کو لیکر دیر رات تک ہنگامہ


کشن گنج، 2 جون (ہ س)۔ صدر تھانہ علاقہ کے مجھیا واقع ندی کنارے پیر کی رات کو 13سالہ طالبات کی مشتبہ حالت میں لاش ملنے سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔

متوفی کی شناخت ڈومریا بھٹہ کے رہنے والے منوج ساہ کی بیٹی میگھا کماری کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ تین دن سے لاپتہ تھی۔ واقعہ کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے پولیس انتظامیہ پر سنگین غفلت کا الزام لگاتے ہوئے رات تک احتجاج کیا۔ اہل خانہ کے مطابق میگھا 29 مئی کی شام کو یہ کہہ کر گھر سے نکلی کہ وہ سیر کے لیے جارہی ہے، لیکن واپس نہیں آئی۔ کافی تلاش کے بعد اہل خانہ اس کی گمشدگی کی رپورٹ دینے ٹاؤن تھانہ گئے لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

متوفی کی والدہ پنکی دیوی نے الزام لگایا کہ پولیس نے اس کی شکایت درج کرنے کے بجائے اسے یہ کہتے ہوئے پھیر دیا کہ لڑکی شاید کسی کے ساتھ گئی ہے اور جلد واپس آجائے گی۔ متوفی کے ماموں لکشمن ساہ نے بتایا کہ لواحقین کو تین بار تھانے جانا پڑا۔

اس دوران پولیس نے لڑکی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اس کی دادی کا موبائل فون بھی چیک کیا، لیکن گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کی۔ بعد میں اہل خانہ نے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی اور شکایت درج کرائی جسے قبول کر لیا گیا۔ پیر کی دوپہر مقامی لوگوں نے پولیس کو مجھیہ ندی کے کنارے ایک لاش ملنے کی اطلاع دی۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے لواحقین نے لاش کی شناخت میگھا کماری کے نام سے کی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تفتیش شروع کردی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال لایا گیا۔ اس واقعہ سے مشتعل ہو کر اہل خانہ اور گاؤں نے اسپتال احاطے اور سڑک پر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔ ایس ڈی ایم انیکیت کمار اور انتظامی اہلکار رات دیر گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہے تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

لواحقین نے 24 گھنٹے کے اندر پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے اور اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا ایس ڈی پی او-1 خسرو سراج نے بتایا کہ موت کی وجہ کی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معاملے کا واضح اندازہ ہو سکے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande