ضلع میں کھاد کی وافر مقدار میں دستیابی، کسان غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں
علی گڑھ, 02 جون (ہ س)۔ ضلع مجسٹریٹ اویناش کمار نے کسانوں کو یقین دلایا ہے کہ ضلع میں تمام اقسام کی کھاد وافر مقدار میں دستیاب ہے اور کسی بھی علاقے میں کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ہی کھاد خریدیں
اویناش کمار


علی گڑھ, 02 جون (ہ س)۔

ضلع مجسٹریٹ اویناش کمار نے کسانوں کو یقین دلایا ہے کہ ضلع میں تمام اقسام کی کھاد وافر مقدار میں دستیاب ہے اور کسی بھی علاقے میں کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ہی کھاد خریدیں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے بچیں۔

ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ یکم اپریل سے 31 مئی 2026 کے دوران ضلع میں 12,274 میٹرک ٹن یوریا، 1,433 میٹرک ٹن ڈی اے پی، 374 میٹرک ٹن این پی کے اور 82 میٹرک ٹن ایم او پی کھاد تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود 2 جون تک ضلع میں 26,927 میٹرک ٹن یوریا، 10,593 میٹرک ٹن ڈی اے پی، 5,092 میٹرک ٹن ایم او پی، 6,292 میٹرک ٹن این پی کے اور 1,461 میٹرک ٹن ایس ایس پی کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق فی ہیکٹیئر زرعی زمین کے حساب سے ایک کسان کو زیادہ سے زیادہ 5 بوریاں ڈی اے پی اور 7 بوریاں یوریا فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس سے زیادہ مقدار ذخیرہ کرنا کھاد کنٹرول آرڈر 1985 کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

اویناش کمار نے بتایا کہ محکمہ تعاون کی جانب سے تمام کمیٹیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کھاد فراہم کی جا رہی ہے اور کسی بھی کمیٹی میں کھاد کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کسانوں سے ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ میں فعال شمولیت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ یوریا کا استعمال زمین کی زرخیزی اور زیرِ زمین پانی کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متوازن کھاد کے استعمال کے لیے این پی کے کا مثالی تناسب 4:2:1 مانا جاتا ہے، جبکہ موجودہ وقت میں یہ تناسب بڑھ کر تقریباً 22:6:1 ہو گیا ہے، جو زراعت اور ماحولیات دونوں کے لیے تشویشناک ہے۔ کسانوں کو چاہیے کہ وہ متوازن مقدار میں کھاد استعمال کرکے زمین کی پیداواری صلاحیت اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔

کھاد سے متعلق کسی بھی شکایت یا مسئلے کے حل کے لیے ضلع زرعی افسر کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ کسان 9504997660 اور 9412509759 پر رابطہ کرکے اپنی مشکلات کا حل حاصل کر سکتے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande