
ناندیڑ، 19 جون (ہ س)۔ سینٹرل ریلوے نے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (ممبئی) اور بلّارشاہ کے درمیان چلنے والی 11001/11002 نندی گرام ایکسپریس کی کوچ ساخت میں اہم تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب یہ ٹرین جدید ایل ایچ بی (LHB) کوچز کے ساتھ چلائی جائے گی، جسے مسافروں کی سلامتی اور بہتر سفری سہولیات کے اعتبار سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم اس تبدیلی کے باعث ٹرین کے کوچز کی مجموعی تعداد 18 سے کم کرکے 16 کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عام مسافروں کے لیے نہایت اہم نان اے سی سلیپر کوچز کی تعداد بھی 8 سے گھٹا کر صرف 5 کر دی گئی ہے، جس پر مسافروں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے شدید ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جس سے زندگی کی رگ سمجھی جانے والی ٹرین پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔نندی گرام ایکسپریس کو مراٹھواڑہ، ودربھ اور تلنگانہ سرحدی علاقوں کے مسافروں کے لیے انتہائی اہم ٹرین تصور کیا جاتا ہے۔ ناندیڑ، کنوٹ، ماہور، ہمایت نگر، عادل آباد، بھوکر، حدگاؤں، پوسد اور ایوت محل سمیت متعدد علاقوں کے ہزاروں افراد روزگار، تعلیم اور کاروبار کی غرض سے ممبئی، تھانے، کلیان اور ناسک کے علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ اس روٹ پر سال بھر مسافروں کی بڑی تعداد کے باعث ٹرین میں شدید بھیڑ رہتی ہے۔ خاص طور پر تہواروں، تعطیلات اور شادیوں کے موسم میں ریزرویشن حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔مسافر تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایل ایچ بی کوچز کا استعمال یقیناً خوش آئند اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ کوچز کی تعداد کم کرنا مناسب فیصلہ نہیں ہے۔ تنظیموں کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ٹرین میں 20 سے 25 کوچز تک شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سلیپر کوچز کی تعداد میں کمی کا سب سے زیادہ اثر دیہی علاقوں کے کسانوں، طلبہ، مزدوروں اور متوسط طبقے کے مسافروں پر پڑے گا، جو کم خرچ سفر کے لیے سلیپر کوچز پر انحصار کرتے ہیں۔ مسافروں کے مطابق نندی گرام ایکسپریس محض ایک ریلوے ٹرین نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اسی لیے جدید کاری کے ساتھ ساتھ مسافروں کی گنجائش میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ایل ایچ بی کوچز کے نفاذ کے باوجود کوچز کی مجموعی تعداد اور سلیپر کوچز میں کمی نہ کی جائے، تاکہ عام مسافروں کو درپیش مشکلات میں اضافہ نہ ہو اور اس اہم ٹرین کی افادیت برقرار رہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے