
اے ایم یو کے پروفیسر نے عصر حاضر کے طلبہ کے لیے نئے تدریسی طریقوں کی ضرورت پر زور دیا
علی گڑھ, 19 جون (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ایس ایم خان نے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نسلِ نو کے طلبہ کی سیکھنے کی ترجیحات کے مطابق اپنے تدریسی طریقوں میں تبدیلی لائیں۔ انہوں نے ‘‘نسلِ نو کے طلبہ کو سمجھنا: اعلیٰ تعلیم کے اساتذہ کے لیے چیلنج اور حکمتِ عملیاں’’ موضوع پر یو جی سی-مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر (ایم ایم ٹی ٹی سی)، گوہاٹی یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا۔
پروفیسر ایس ایم خان نے کہا کہ نسلِ نو کے طلبہ ایک انتہائی ڈیجیٹل ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں، وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ ہیں اور ذہنی صحت و مستقبل میں روزگار کے امکانات کے بارے میں بھی زیادہ فکر مند رہتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معلومات کی بہتات اور توجہ کے دورانیے میں مسلسل کمی کے اس دور میں روایتی لیکچر پر مبنی تدریسی طریقے اپنی اثر پذیری کھوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے تدریسی انداز میں تبدیلی کی وکالت کرتے ہوئے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ روایتی ‘‘اسٹیج پر موجود دانا’’ کے ماڈل سے آگے بڑھ کر زیادہ تعاملی اور رہنمائی پر مبنی ‘‘ساتھ چلنے والے رہنما’’ کے طریقۂ عمل کو اختیار کریں۔ انہوں نے طالب علم پر مرکوز تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، جو فعال شرکت، تنقیدی فکر، باہمی تعاون اور بامعنی تعلیمی مشغولیت کو فروغ دیتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے وژن سے اپنی گفتگو کو جوڑتے ہوئے پروفیسر خان نے اعلیٰ تعلیم کے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ ایسے لچکدار، دلچسپ اور مستقبل سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول تشکیل دیں جو عصر حاضر کے طلبہ کی امنگوں اور چیلنجوں سے ہم آہنگ ہوں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ